پاک بھارت کشیدگی : ’مودی سرکار‘ مشکل میں

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے برصغیر پاک و ہند کو جنگ کے دھانے پر لا کھڑاکرنے کا جو سیاسی جوا کھیلا ہے وہ پاکستانی سیاسی اور فوجی قیادت کے انتہائی مدبرانہ رد عمل کی وجہ سے انڈیا کی اندرونی سیاست اور بین الاقوامی سطح پر بھی ’مودی سرکار‘ کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

منگل کے روز رات کی تاریکی میں بالا کوٹ پر انڈین فضائیہ کی ایک اوچھی حرکت سے لے کر بدھ کو دن کی روشنی میں پاکستانی فضائیہ کی ایک دلیرانہ کارروائی میں انڈین فضائیہ کے دو طیاروں کے گرائے جانے تک بھارتی حکومت اور انڈین میڈیا کے جھوٹ کو روز روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں کر دیا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائےاعظم کی صرف مصروفیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کون سا ملک صبر وتحمل اور برداشت سے کام لے رہا ہے اور کون سا ملک اپنےآپے سے باہر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جو ایک روائتی سیاست دان نہیں ہیں اور سیاست میں آنے سے قبل ایک جارحانہ گیند باز رہے ہیں بڑے دھیمے لہجے اور نپے تلے انداز میں انتہائی مختصر قوم سے دو خطاب کیے۔ وہ اپنے متعلقہ اداروں اور فوجی قیادت سے مشاورت کرتے نظر آئے۔  ان مشوروں کے بعد انھوں نے قوم سے جو خطاب کیے ان میں انھوں نے بھارت کو عقل سے کام لینے اور مذاکرات  کی میز پر لوٹنے کی تلقین کی۔

سرحد کے پار طاقت کے نشے میں چور ایک روائتی سیاست دان جو چائےبیچتے بیچتے نفرت اور خون آلود سیاست کے بل بوتے پر وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچا ہے، عوامی جلسوں سے خطاب کرتا دکھائی دیا۔ مودی ماسوائےعوامی جلسوں کے ایک مرتبہ بھی کسی سنجیدہ فورم پر اظہار خیال کرتے یا مشاورت کرتے دکھائی نہیں دیے۔

دہلی میں جنگ کی یادگار کے افتتاح کے موقع پر بھی انھوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنایا اور کوئی سنجیدہ بات نہیں کی۔

نریندر مودی نے سرحد پار سے دہشت گردی کو بہانہ بنا کر پاکستان  کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں کو اعتماد میں لینا تو کجا اپنے وزیروں کو بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ اس پر انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید اعتراض بھی کیا ہے۔

نریندر مودی نے منگل کو  راجستھان میں پلوامہ میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تصویریں سجا کر تقریر کی جس میں انھوں نے  ایک قومی نغمہ بھی گنگنایا  جس کے الفاظ تھے انڈیا کو جھکنے نہیں دیں گے۔

لیکن بدھ کے روز انڈین فضائیہ کے روس سے حاصل کردہ دو مگ  طیاروں کے پاکستانی  فضائیہ کے پاکستانی ساخت کے جی ایف تھنڈر طیاروں  کے ہاتھوں تباہ ہونے کے بعد نریندر مودی سارا دن کہیں دکھائی نہیں دیے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کی زبان گنگ ہو گئی ہے۔

نئی دہلی  میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ

پاکستان کی جانب سے انڈیا کے دو جنگی طیاروں کو مار گرانے اور کم از کم دو انڈین پائلٹوں کو زندہ پکڑ لینے کے دعوے کے بعد انڈیا میں جوش خروش کی جگہ  فکر مندی نے لے لی ۔

پاکستان کی جانب سے کارروائی کے  کئی گھنٹوں بعد  انڈین وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے فضائیہ کے ایئر وائس مارشل کو ساتھ بٹھا کر بنے۔ جس دوران فضائیہ کو ائیر وائس مارشل آر جی کے کپور کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس حقیقت میں اب کوئی شک باقی نہیں رہ گیا کہ پلوامہ پر حملے کے بعد جس بھونڈے طریقے سے گجرات کے قصائی کا لقب رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم نے جو سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی وہ بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔

انڈیا میں بدھ کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے انڈیا کے اپنے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے مطابق  شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اس اجلاس کے بعد جو بیان پڑھ کر سنایا گیا اس میں بی جی پی کے رہنماؤں کی طرف سے انڈین فوج کے جوانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں پر سیاست چمکانے کا الزام لگایا گیا۔

انڈیا میں مودی کے حواری امبانیوں کے زیر تسلط میڈیا اب بھی مودی سرکار پر حرف تنقید اٹھانے کے بجائے ہر برائی پاکستان  پر ڈال رہا ہے۔

انڈیا ہمیشہ سے کشمیر کو اپنے اندرونی معاملہ قرار دیتا رہا ہے۔ اس مسئلہ پر بین الاقوامی ثالثی کو بھی اس نے کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ موجودہ صورت حال بلاشبہ مودی نے سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر اور سوچتے سمجھتے ہوئے پیدا کی ہے۔ مودی کو شاید اس سے ممکنہ نقصانات کا اندازہ نہیں ہو گا۔

انھیں یہ اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ اس سے کشمیر کا مسئلہ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے اور یہ تنازع ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو سکتا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کی کامیابی کارروائی نے تو پوری بساط ہی پلٹ کر رکھ دی ہے۔ اس کے بعد نہ صرف انڈین افواج کے حوصلہ پست ہو جائیں گے بلکہ پوری قوم جس کےلیے ایک کرکٹ میچ میں شکست برداشت مشکل ہو جاتی ہے مایوسی کا شکار ہو جائے گی۔

اب مودی کو نہ نگلتے بنے نہ اگلتے بنے کی سی صورت حال درپیش ہے۔

اگر مودی پاکستان فضائیہ کی اس کامیاب کارروائی کا کوئی جواب نہ دے سکے تو آئندہ انتخابات میں اس کا زبردست سیاسی نقصان ایک بالکل قدرتی بات ہو گی۔ جب کہ دوسری طرف دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جس سطح پر چلی گئی ہے بین الاقوامی قوتیں پسے پردہ مودی کو کوئی مزید ایڈونچرز کرنےسے روکنے کی پوری کوشش میں ہوں گی۔ اس کے علاوہ

وزیر اعظم پاکستان نے مودی کو پھر مذاکرات کی پیش کش کر کے انھیں مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگر بین الاقوامی دباؤ میں مذاکرات کرتے ہیں تو قومی عزت اور وقار پر مزید حرف آئے گا اور نہیں کرتے تو پھر خاموش ہو کر اپنے زخم سہلانا ہوں گے۔


لکھاری نامور صحافی ہیں اور عالمی نشریاتی ادارے سے وابستہ ہیں۔ 

ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

ٹاپ اسٹوریز