دہشت گردی: خطے کی جنگ

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور

ستمبر 2016 میں بھارت میں اوڑی اٹیک کے بعد دیے گئے انٹرویو میں دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ اسد منیر نے بتایا تھا کہ دسمبر 2001 میں جب انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے بعد تورا بورا کا آپریشن ہو رہا تھا ایسے وقت میں القاعدہ کے بڑے لیڈر فرار ہو کر پاکستان آنا شروع ہو گئے تھے ۔ ان دہشت گردوں کے انسداد کے لیے پاک آرمی نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں کی طرف پیش قدمی شروع کی تا کہ القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کی آمد کو روکا جا سکے۔ یہی وہ وقت تھاجب انڈٰیا نے اپنی فوج مشرقی بارڈر پر بھیجنا شروع کر دی جس کی وجہ سے پاکستانی فوج کو ملکی دفاع کے لئے مشرقی بارڈر پر توجہ مرکوز کرنا پڑی ۔ انڈیا نےتقریباً ڈیڑھ سال تک فوج کو بارڈر پر لگائے رکھا جس کا یہ نقصان ہوا کہ اس دوران القاعدہ سمیت بین الا قوامی اور لوکل عسکری گروپوں جیسا کہ لشکر جھنگوی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع ملا کہ وہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں خود کو مضبوط کریں اور وہاں اپنی پناہ گاہیں بنائیں ۔ اس سے ان کو مزید موقع ملا کہ وہ دیگر علاقوں میں بھی پھیل جائیں ۔ اس نقصان کو پورا کرنے لے لئے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔

لیکن کیا یہ آپریشن ایسے نتائج پیدا کر سکے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی سطح پر پزیرائی ملی ہو ۔ تو اس کا جواب نہیں ہے ۔ کیونکہ فنا نشل ایکشن ٹاسک فورس کی گزشتہ کارروائی میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا ہے ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا۔ اس ادارے کا مقصد منی لانڈرنگ ، دہشت گردی کے لئے مالی تعاون ، اور بین الاقوامی مالی امور سے متعلق دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا ہے ۔یہ ٹاسک فورس پوری دنیا میں لین دین کے مالی معاملات کی نگرانی کرتی ہے ۔ ٹاسک فورس جائزہ لیتی ہے کہ اقوام متحدہ کے نمائندہ ممالک دہشت گردی کے حوالے سے مالی تعاون کی روک تھام کے لئے مناسب اور ضروری اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں ۔

پاکستان پہلے بھی 2012 سے2015 تک گرے لسٹ میں تھا۔ لیکن 2015 میں پاکستان کو بہترکارکردگی کی وجہ سے اس لسٹ سے نکال دیا گیا تھا لیکن اب پاکستان کو دوبارہ اس لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے ۔ پاکستان کے علاوہ ایتھوپیا ، عراق ، سری لنکا، سربیا ، شام اور تیونس بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔

گرے لسٹ میں شامل ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس ملک میں غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنا بند کر دیتی ہیں ۔ تا کہ ان کا پیسہ کسی ایسے ملک میں استعمال نہ ہو  جس کے بارے میں خدشہ ہو کہ یہ پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح مختلف مالیاتی ادارے جیسا کہ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک ایسے ملکوں کو قرض یا مالی امداد دینے سے پہلے کڑی شرائط رکھتے ہیں ۔ پاکستان کو جون تک کا وقت دیا گیا ہے ۔ بادی النظر میں یہی نظر آتا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی دو تنظیمیں جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کو پاکستان میں کھلی آزادی حاصل رہی ۔ اس کے علاوہ داعش ، القاعدہ ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد کے حوالے سے عالمی معیار کے مطابق ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ جس کو دلیل بناتے ہوئے امریکہ نے ٹاسک فورس کے اجلاسوں میں فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کروا دیا۔ اگر پاکستان نے جون 2019 تک ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہ کیا تو وہ بلیک لسٹ ہو جائے گا ، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گا جو ٹیرر فنڈنگ کے خلاف لڑائی لڑنے کو تیار نہیں ۔ پاکستان اس وقت معاشی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ جماعۃ الدعوہ اور فلا ح انسانیت فائونڈیشن سمیت 70 تنظیموں پر پابندی کے بعد ایسے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے جو ملک کے لئے مزید بحران نہ پیدا کریں۔ اسی طرح شیڈول فور میں موجود سات ہزار سے زائد افراد کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی ہونا ضروری ہے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات کا ذکر موجود ہے ۔اقوام متحدہ کی متفقہ قرارداد 1267, 1373 میں دیئے گئے معیارات کے مطابق انفرادی طور پر دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کا کہا گیاہے۔

دوسری جانب پلوامہ حملوں اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت میں پیدا ہونے والے تنازعے کے نتیجے میں پاکستان پر عالمی دبائو بڑھنے کا خدشہ ہے۔ جب کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی دفعہ عوامی خطابات میں کھل کر اظہار کیا ہےکہ وہ پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ گزشتہ سال نریندر مودی نے کہا تھا ’’پانیوں کا تعلق انڈیا سے ہےاور ہم اس کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ بھارت عالمی سطح پر کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو ایسی ریاست کے طور پر شناخت کیا جائے جو دہشت گردی کو سپورٹ کرتی ہے۔ جب کہ خود بھارت میں اس وقت انتہا پسند تنظیمیں ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ میں ہے بھارت کی طرف سے ایک نیا محاذ کھولنا یقینا پورے خطے کے امن کو پارہ پارہ کر دے گا۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی کی جنگ صرف پاکستان کی جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کی جنگ ہے۔ ہمسائے میں اگر آگ لگی ہو تو اس پر تیل نہیں نہیں پانی چھڑکا جاتا ہے ۔ دوسری طرف عالمی طاقتوں کو بھی اپنے پیمانے اور معیار بدلنے ہوں گے۔ ایسا کب تک چلے گا کہ مریں بھی ہم اور مجرم بھی ہم کہلائے جائیں۔ کیونکہ ریاستیں تب ہی ترقی کرتی ہیں ۔ جب وہاں سماجی اور معاشی خوشحالی ہو ۔ اور یہ دہشت گردی کے عفریت کے ساتھ ممکن نہیں۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

امجد قمرفری لانس جرنلسٹ، کمیوینیکیشن ایکسپرٹ اور بلاگر ہیں جو سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

ٹاپ اسٹوریز