اب آپ یہ کریں

آوازہ

سقوط کشمیر تو ہو گیا، اب اس کے بعد؟ وہی عمران خان والی بات کہ کیا کریں، بھارت پر حملہ کر دیں؟ پاکستان کے منفرد حکمران نے جس دم یہ بات کہی، میرا دھیان کہیں دور بلکہ بہت دور یعنی سیاٹل جا پہنچا۔ اس امریکی شہر سے پاکستانی خوب مانوس ہیں کہ اپنے ایف سولہ لڑاکا طیارے اسی شہر میں بنتے اور یہیں سے سیدھے پاکستان آیا کرتے تھے۔ طیارے کے پہیوں نے جب اس شہر کی زمین کو چھوا تو احساس یہی تھا کہ چوں کہ یہ ایک صنعتی شہر ہے، اس لیے یہاں کی سیر بہت روکھی پھیکی سی ہو گی مگر یہ شہر تو زندگی اور جذبے، دونوں سے معمور نکلا۔ اس فیصلے پر پہنچنے میں کئی تجربات مددگار ثابت ہوئے لیکن سب سے بڑے تجربے کا تعلق کشمیر سے ہے۔

اس شہر کی شامیں کراچی اور حیدرآباد کی طرح خوش گوار ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شام ہماری ملاقات پروٹیسٹر سے ہو گئی۔ ساٹھ باسٹھ برس کی یہ عورت دبلی پتلی اور بڑی زندہ دل سی تھی۔ تعارفی گفتگو میں جب اس نے یہ بتایا کہ وہ پروٹیسٹر ہے تو یہ جان کر حیرت ہوئی اور سوچا کہ یہ کیسا پیشہ ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ امریکہ اور دنیا کی بعض ایسی غیر سرکاری تنظیموں کی رکن ہے جو دنیا کے کسی بھی خطے میں ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور مظاہروں کا اہتمام کرتی ہے۔ ہم نے پوچھا کہ کیا کوئی مظاہرہ تم نے کشمیر کے مسئلے پر بھی کیا؟ یہ سوال اس نے تحمل سے سنا اور پھر پوچھا کشمیر کیا ہے؟ اس کے جوابی سوال نے تھوڑا پریشان کیا لیکن ممکنہ حد تک تفصیل کے ساتھ اسے اس خطے اور اس کے محل وقوع اور اس سے وابستہ مسئلے سے آگاہ کیا۔

اس دنیا میں کشمیر نام کا کوئی خطہ بھی ہے اور یہ خطہ ایک عظیم انسانی المیے سے دوچار ہے؟ یہ اس کے لیے ایک نئی اور حیران کن خبر تھی۔ مکرر عرض کرتا ہوں کہ یہ خاتون انسانی حقوق کے معاملات میں سرگرم تھی اور صرف امریکہ میں نہیں، اس سے باہر جا کر بھی مظاہرے کیا کرتی تھی لیکن کشمیر اور المیہ کشمیر سے سرے سے ناواقف تھی۔ اس کی بے خبری پر ہم شائستگی کے ساتھ جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے، خوب کہا لیکن جب اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا تو سچی بات یہی ہے کہ خود اپنے آپ سے بھی شرم محسوس ہوئی کہ جس مسئلے کو ہم اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہماری کارکردگی یہ ہے کہ لوگ اس خطے کے نام تک سے واقف نہیں۔

بات دل دکھانے والی ہے لیکن سچی ہے کہ عمران نے جس دم یہ کہا کہ پھر اور کیا کروں تو ایسا لگا کہ اس بارے نہ ان کا اپنا ذہن واضح ہے اور نہ ان کی حزب اختلاف کا، ورنہ بات تو سامنے کی ہے کہ کارگل کے زمانے میں جو کچھ بھارت نے کیا، ہمیں اس مرحلے پر وہی کچھ، اس سے بڑھ کر، بلکہ بہت بڑھ کر کرنا ہے تاکہ مودی نے تاریخ کا پہیہ اپنی مرضی سے جس طرح چلانے کی کوشش کی ہے، اس پر اسے پریشانی محسوس ہو، بالکل اسی طرح جیسے گارگل کے موقع پر بھارت نے اپنی جارحانہ سفارتی حکمت عملی سے پاکستان کو سفارتی تنہائی میں مبتلا کر دیا تھا۔

ایک بات ہر کسی کی زبان پر ہے کہ دنیا کی ترجیحات بدل چکیں، اب کوئی ہماری بات سنتا ہے اور نہ کسی کو کشمیر سے کوئی دلچسپی ہے۔ یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ دنیا میں ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اور مختلف قومیں مختلف معاملات پر اپنے مفادات کے تابع پالیسیاں اختیار کرتی رہتی ہیں۔ آج کی دنیا پر نظر دوڑائیں تو اس کے ایجنڈے پر کشمیر یقینا بہت نیچے دکھائی دیتا ہے یا بالکل دکھائی نہیں دیتا لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایسا کیا پہلی مرتبہ ہوا ہے، کوئی قوم اس طرح کی آزمائش سے نہیں گزری؟

پاکستان آج جس صورت حال سے دوچار ہے، دنیا کی بہت سی قوموں کو اس طرح کے تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ اس معاملے میں ایران، توران حتیٰ کہ چین کی مثالیں بھی کچھ غیرمناسب نہیں لیکن انھیں بھی نظرانداز کیجئے اور خود بھارت پر نگاہ دوڑا لیجئے۔ صرف پاکستان کے اخبارات نہیں، چالیس پچاس برس پہلے کے ٹائم، نیوزویک اور مغربی دنیا کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے، اسی کشمیر کے معاملے میں بھارت دنیا میں تنہائی کا شکار تھا، پوری دنیا کا پریس، اہم دارالحکومت اور انسانی و سیاسی حقوق کی محافظ تنظیمیں کشمیر کے سوال پر پاکستان کا کھل کرساتھ دیا کرتی تھیں۔

80 کی دہائی میں نام نہاد یا جیسا بھی وہ تھا، جہاد کے مرحلے پر پاکستان دنیا کی آنکھ کا تارہ تھا اور بھارت نکو۔ اس زمانے میں برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے بر صغیر کا دورہ کیا تو اس وقت بھارت کی پوزیشن ویسی ہی تھی جیسی صدر کلنٹن کے دورہ برصغیر کے موقع پر پاکستانی انتظامیہ کی، لیکن پھر کیا ہوا؟ دنیا کا رخ دیکھتے ہی دیکھتے بدل گیا۔ اس کے پس پشت کیا جادو کارفرما تھا؟ یہ جواب درست ہو گا کہ دنیا کے مفادات۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ بڑھ کر یہ جواب درست ہو گا کہ بھارت کی اپنی کوششیں۔ بھارت اگر دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ کامیابی سے پیش کر سکتا ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل اور خوبیوں سے دنیا کو آگاہ کرتے ہی نہیں۔

اگر سیاٹل کی پروٹیسٹر ایک صحافی کی گفتگو کے نتیجے میں کشمیر کے مسئلے کو سمجھنے اور مسلسل رابطہ رکھنے کی شرط پر کچھ کرنے پر تیار ہو جاتی ہے تو اگر یہی کوشش پوری قوم مل کر کرے تو کیا نہیں ہوسکتا۔ تو کہنا یہ ہے کہ یہ قیامت کی گھڑی ہے اور تو عرصہ محشر میں ہے۔ اس محشرستان سے بخیر و خوبی نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنی اپنی جگہ اس کام پر لگا دیا جائے۔ پوری دنیا خصوصا مغربی ممالک ایسے موضوعات پر کام کرنے والی ہر این جی او اور شخصیات سے رابطے کیے جائیں۔ غیر سرکاری سطح پر اس طرح کا کام ہماری جانب سے آج تک نہیں ہوا لیکن اگر ہمارے سفارت خانوں کے اکڑی ہوئی گردنوں والے سفارت کار عام پاکستانی سے رشتہ جوڑ کر ان سے کام لینے کی کوشش کریں تو کمال ہوجائے گا۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ سرکاری سطح پر ہنگامی بلکہ یوں کہیے کہ شٹل ڈپلومیسی شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے سربراہ سے لے کر اراکین پارلیمنٹ تک سب کے سب اس کام میں مصروف ہو جائیں۔ اگر کچھ دیر کے لیے ہم اپنی داخلی لڑائیوں کو بھول کر اس کام میں جت گئے تو معجزہ نہ ہو جائے تو کہئے گا۔ یہ کام اگر نہ ہوا تو پھر یوں سمجھ لیجئے کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا اور کشمیر تو ایک ایسا مظلوم ہے جس کی آہ سے آج تک کوئی بچ نہیں پایا۔

ٹاپ اسٹوریز