نام نہاد لبرلز اور کشمیر

کشمیر کی موجودہ صورتحال بھارت کے لیے خطرہ قرار

اکثر دیہات میں آپ کو پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک ایسا کردار نظر آئے گا جو شہر سے آنے والے ہر شخص کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ گاؤں کے لوگ جاہل ہیں ، ان کے برعکس وہ “شہری خیالات“ کا حامل ہے اور اس کے اپنے گاوں والوں سے شدید نظریاتی اختلافات ہیں۔
یہ شخص اپنا فرض سمجھتا کہ گاؤں والوں سے بات بات پر بحث کی جائے اور انہیں بار بار یہ بتایا جائے کہ تم لوگ جاہل ہو اور دنیا کتنی آگے نکل گئی ہے۔
یہ ہی حال کچھ ہمارے نام نہاد لبرلز کا ہے، ہر باہر سے آنے والے کو یہ لوگ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ پاکستانی قوم پسماندہ اور دقیانوسی خیالات کی حامل اور وہ اس کے برعکس “روشن خیال” اور مغربی جمہوری خیالات کے حامل ہیں۔
احساس کمتری کا شکار یہ نام نہاد لبرل اپنے ہی ملک کی برائی کرنے کا اور دوسروں کی تعریفوں کے پل باندھنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔
یہ لوگ ہمیں بھارتی جمہوریت کے قصے سناتے نہیں تھکتے تھے۔ بار بار ہمیں بتایا جاتا تھا کہ اپنے ہمسائے سے سیکھیں ، دیکھیں بھارت میں جمہوریت اور جمہوری روایات کتنی مستحکم ہیں۔ پاکستان تو انتہا پسندی کا شکار ، ہمارا معاشرہ رجعت پسند ہے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی انتہا پسند یا مذہبی جماعتوں کو مقبول ووٹ نہیں پڑا ، اس کے برعکس بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کو تین بار بھارتی عوام نے منتخب کیا۔
اب یہ ہی نام نہاد لبرلز ہمیں بتا رہے ہیں کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار نریندر مودی ہیں جبکہ حقیقت یہ کہ کشمیر میں جو کچھ مودی سرکار نے کیا ہے دراصل وہ ایک انتہا پسند قوم کی خواہش تھی نہ کہ صرف اکیلے مودی جی کا کارنامہ۔
بھارت کے سیاسی منظرنامے پر اگر آج ہم نظر ڈالیں تو بھوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی بھی کشمیر کے معاملے پر مودی کے ساتھ کھڑیں ہیں۔جبکہ کانگریس کے اندر سے بھی بہت سی آوازیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اقدام کے حق میں سننے کو مل رہی ہیں۔
ہمارے یہ نام نہاد لبرل اور دانشور کچھ عرصہ قبل تک کشمیر کا نام بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ کشمیر میں آزادی کے لیے آواز اٹھانے والوں کو یہ دہشت گرد کہتے تھے، ہمیں بھاشن دیتے تھے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کرو، باڈر کھول دو، یورپی یونین کی مثال دی جاتی تھی، لیکن اب اچانک انھوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر تلواریں اٹھا لی ہیں اور عمران خان صاحب کو کہہ رہے ہیں کہ کشمیر پر حملہ کر دیں۔
ان کی بدنیتی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مودی کے شرمناک اقدام کو حکومت پاکستان کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کا اپنے آئین سے انحراف کرنا یا اس میں تبدیلی کرنا پاکستان کی شکست کیسے ہوگئی؟ ان کا مقصد بس مایوسیاں پھیلانا ہے۔
کشمیر کی آڑ میں ان لوگوں نے اپنے کرپٹ سیاسی آقاؤں کو بچانے کی مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ مسلسل کہا جا رہا ہے کہ نیب کو اپنی کارروائیاں روک دینی چاہیں کیونکہ اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے۔
کوئی ان سے پوچھے کیا کشمیر کو کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے والے بچائیں گے؟ وہ لوگ جو سر تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ کشمیریوں کا اخلاقی مقدمہ لڑیں گے؟
کیا پاناما زدہ، جعلی اکاونٹ ، منی لانڈرنگ، قطری خط اور سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات پیش کرنے والے نو سرباز ہی رہ گئے ہیں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے؟ جب یہ بدعنوان عناصر کشمیریوں کے وکیل بنیں گے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ ایسے کرداروں کو کشمیر کاز سے جتنا دور رکھا جائے بہتر ہے نہیں تو اخلاقی طور پر کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔
مودی سرکار نے اپنے اس اقدام سے کشمیر کے مسئلے کو خود ہی عالمی سطح پر اجا گر کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے اس قبل کھلبوشن کے معاملے کو بھی بھارت نے عالمی عدالت میں لیجا کر بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اور ایکسپوز ہوا۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو مودی نے کشمیر کے حوالے سے کوئی خصوصی مشن سونپا ہے، اور اجیت دوول صاحب کی کشمیر سے کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
اگر حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اجیت دوول نے کھلبوشن سے لے کر پاکستان پر ناکام فضائی حملے تک جس بھی معاملے میں ہاتھ ڈالا ہے اپنے ملک کو رسوا کروایا ہے۔ اب ان کی توجہ کشمیر کی جانب ہوئی ہے تو انشااللہ یہاں بھی رسوائی ہی ان کا مقدر بننے گی۔
یہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ مودی جی کا حالیہ اقدام ایک ایسی چال ہے جس نے پاکستان کو چاروں شانے چیت کر دیا ، لیکن در حقیقت مودی نسل پرست اور اسلاموفوبیا کا شکار ہیں اور آرٹیکل 370 کا خاتمہ شطرنج کی چال کے بجائے مسلمانوں سی اندھی نفرت کے نتیجے میں کیا گیا فیصلہ ہے۔
اس فیصلے سے بھارت میں خصوصی درجہ رکھنے والی شمال مشرقی ریاستوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور وہاں کی علیحدگی پسند تحریکوں میں تیزی آنے کا قوی امکان ہے ۔ مسلمان دشمنی میں اٹھائے گئے اس اقدام سے سے بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

ٹاپ اسٹوریز