تقریر کا مخاطب کون؟

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کے بعد زور و شور سے داد و تحسین کی گئی کہ ایسی شاندار تقریر کبھی تاریخ میں ہوئی ہی نہیں اور عمران خان نے اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا کردیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بہت سی تاریخی تقاریر کی گواہ ہے، اس لیے بہتر بات یہ ہے کہ عمران خان کی تقریر کا جائزہ اس کے مواد کی روشنی میں لیا جائے۔

وزیراعظم کی تقریر کے چار نکات تھے، ماحولیاتی تبدیلیاں، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ، اسلامو فوبیا اور کشمیر۔۔۔ماحولیات پر وزیراعظم نے کچھ زیادہ بات نہیں کی، بس اتنا کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے دس سرفہرست ملکوں میں سے ایک ہے اگرچہ اس کا آلودگی پھیلانے میں زیادہ کردار نہیں اور اپنے بلین ٹری منصوبے کا ذکر کیا۔ اس پر بات کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا ماحولیاتی آلودگی میں کیا کردار ہے اور اسے کم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کس حد تک کافی یا ناکافی ہیں تاہم  بہتر ہوتا اگر عمران خان کوئلے ے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور پلاسٹک کا استعمال کم کرنے کے اقدامات پر کچھ روشنی ڈالتے۔

دوسرا اہم نکتہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ تھا جس کا تعلق وزیراعظم نے ملکی قرضوں سے جوڑا۔۔۔ یہ عمران خان کا پسندیدہ موضوع ہے لیکن بدعنوانی، ملکی قرضوں اور ترقی کو وہ جیسے آپس میں جوڑتے ہیں وہ ہضم نہیں ہوتا۔ میں معیشت کا ماہر نہیں لیکن کچھ اعدادوشمار پیش کرنا چاہوں گا

دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں سے کچھ کے قرضوں اور ان کا جی ڈی پی سے تناسب اس طرح ہے، جاپان کے قرضے جی ڈی پی کا 273 فیصد، اٹلی کا 129 فیصد، امریکہ کا 108 فیصد اور فرانس کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 96 فیصد ہے ( بحوالہ سپیکٹیٹرز انڈیکس) جبکہ پاکستان کے کل اندرونی و بیرونی قرضے اس کی جی ڈی پی کا 97 فیصد ہیں ( بحوالہ سٹیٹ بینک)۔

یہاں سادہ سوال یہ ہے کہ اگر صرف قرضے کسی ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہیں تو جاپان، اٹلی، امریکہ اور فرانس ہم سے زیادہ ترقی یافتہ کیوں ہیں؟ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں یہ بات درست کہی کہ غریب ملکوں کے حکمران لوٹی ہوئی دولت سے امیر ملکوں میں جائیدادیں بناتے ہیں اور امیر ملک یہ دولت غریب ممالک کو واپس کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ عمران خان نے یہ سوال بھی ٹھیک کیا کہ دنیا آف شور کمپنیاں اور ٹیکس ہیون بنانے کی اجازت کیوں دیتی ہے ؟ ( یہ بات اپنی جگہ کہ عمران خان لندن میں اپنا فلیٹ ایک آف شور کمپنی بنا کر خریدنے کا اعتراف سپریم کورٹ میں کر چکے ہیں، اور ان کے وزیروں مشیروں پر اب بھی آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام ہے)

اب آئیے تیسرے اہم نکتے کی طرف جس میں عمران خان نے اسلامو فوبیا اور توہین رسالت جیسے حساس موضوعات پر بات کی، انہوں نے درست کہا کہ نائن الیون کے بعد مغرب میں اسلامو فوبیا تیزی سے پھیلا، اسلامی دہشت گردی کے نام پر مغربی ملک منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی نظرانداز کر دیتے ہیں، مغرب میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کا عمران خان کو ذاتی تجربہ ہے اور وہ انہوں نے بیان بھی کیا، توہین رسالت پر بھی انہوں نے سمجھ داری سے بات کی اور دنیا کو بتانے کی کوشش کی کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مقدسات کی توہین سے مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ تقریر کے تیسرے اور چوتھے حصے میں وزیر اعظم مسلمانوں کے اس طبقے کی طرح نظر آئے جو اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار اغیار کو قرار دیتا ہے، عمران خان نے کہا کہ مسلمانوں کے ردعمل پر انہیں عدم برداشت اور عدم رواداری کا طعنہ دیا جاتا ہے، یہاں رک کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا صرف مقدسات کی توہین پر احتجاج کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر عدم برداشت کا الزام لگتا ہے؟

احتجاج بنیادی انسانی حق ہے اور پوری دنیا میں اس حق کو تسلیم کیا جاتا ہے، یورپ اور امریکہ میں عراق جنگ کے خلاف ملین مارچ ہوئے، حال ہی میں ماحولیات کے عنوان سے بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا، ان پر کسی نے عدم برداشت کا طعنہ عائد نہیں دیا لیکن جب احتجاج میں تشدد شامل ہو جائے، جب مظاہرین عوام کی جان و مال کے دشمن بن جائیں تو پھر یہ الزامات بھی لگیں گے، ریاست مدینہ میں اقلیتوں کے ساتھ برابری کی مثال دیتے وقت عمران خان یہ بتانا بھول گئے کہ ان کے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

اقوام عالم کو اس سے کیا غرض کہ چودہ سو سال پہلے ریاست مدینہ میں خواتین کو وراثت کا حق دیا گیا، ان کا سوال تو یہ ہو گا کہ کیا آج کی ریاست میں خواتین کو وراثت میں حصہ ملتا ہے؟

عمران خان نے دنیا کے مسلمانوں پر مظالم اور اقوام عالم کی بے رخی پر سوال اٹھایا کہ

Are we the children of lesser god?

یہی سوال اپنی عبادت گاہوں پر حملوں اور بستیوں اور گھروں کو جلائے جانے کے بعد پاکستان کے مسیحی بھی کرتے ہیں، آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ یہ سوال زبردستی مسلمان کی جانے والی ہندو لڑکیوں کے والدین بھی پوچھتے ہیں اور یہی سوال نسل کشی کا شکار ہزارہ بھی کرتے ہیں۔

Are we the children of lesser god?

وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو تفصیل سے آر ایس ایس کے متعلق بتایا، نازی نظریات اور آر ایس ایس کے تعلق کو بھی واضح کیا، یہ ایک اچھی کوشش قرار دی جا سکتی ہے لیکن اگر دنیا آپ کے ملک میں موجود انتہا پسند اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں پر سوال اٹھائے تو کیا جواب دیں گے؟

یہاں یہ سفارتی نکتہ بھی عمران خان کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کسی ملک کے سربراہ کا نام لے کر تنقید کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، ملکی معاملات کو ذاتی سطح تک لے جانے سے مستقبل میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، مودی کو ہٹلر قرار دینے کے بعد کیا عمران خان، بھارتی وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ پائیں گے؟

اور آخر میں بات کرتے ہیں وزیراعظم کی جانب سے اقوام عالم کو دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم سے ایٹمی جنگ کی دھمکی کی، کیا وزارت خارجہ کے کسی افسر اور کسی سفارت کار نے وزیراعظم کو نہیں بتایا کہ اس سے پاکستان کا کتنا منفی تاثر ابھرے گا ( جو دنیا میں پہلے بھی کچھ زیادہ مثبت نہیں)؟ کیا اس دھمکی کے بعد دنیا میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر پھر سے انگلیاں اٹھنا شروع نہیں ہو جائیں گی؟ الفاظ کا چناو بہت اہم ہوتا ہے، وزیراعظم کا اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ جنگ کی صورت میں ہم آخری سانس تک لڑیں گے، ساری دنیا کو پتہ ہے کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور ایک ایٹمی طاقت کی طرف سے آخری سانس تک لڑنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، جنرل اسمبلی میں کھلم کھلا یہ کہنا کہ ایٹمی جنگ کے دنیا پر اثرات ہوں گے، نرم سے نرم الفاظ میں اسے سفارتی سطح پر فاش غلطی ہی کہا جا سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جذباتی تقریر کا مخاطب دنیا کم اور پاکستانی عوام زیادہ تھے اور اس کا اثر بھی یہی ہوا کہ پاکستان میں خوب واہ واہ ہو گئی اور مخالفین تک کھل کر تنقید نہ کر سکے۔

ٹاپ اسٹوریز