50سال پہلے کی تحریکی سوچ

خبر ہونے تک

مسلم لیگ کے قائد نوازشریف کی جانب سے جے یو آئی کے آزادی مارچ اور لاک داؤن کی بھر پور حمایت اور کارکنوں کو شرکت کی ہدایت بعد مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک میں نہ صرف جان پڑگئی ہے بلکہ آزادی مارچ بھی یقینی ہو گیا ہے کہا جارہاہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کامیابی کے روشن امکان کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے اور میاں نوازشریف بھی مثبت نتیجے کی امید کے بغیر حمایت نہیں کرتے نواز شریف کے اعلان کے بعد مسلم لیگی حلقوں میں تیاریاں شروع ہورہی ہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری پہلے ہی مولانا کے حامی ہیں یوں آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن پاکستان کی سیاست میں ایک اور باب کا اضافہ کرنے جارہے ہیں اور ایک بار پھرملک کی سیاست مائینس فامولے کے گرد گھومنا شروع ہوگئی ہے۔

پاکستانی سیاست ہو یا کوئی کھیل خود پر بھروسہ اور اعتماد کرنے کے بجائے یہ دعا کی جاتی ہے کہ مقابل کسی طرح مقابلے سے باہر ہوجائے تو اس کی کامیابی ہو سکتی ہے کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے اگرفلاں ٹیم فلاں کو ہرادے تو ہم آگے آسکتے ہیں سیاست میں بھی ایسا ہی ہے کہ فلاں لیڈر یا فلاں پارٹی مقابلے سے باہر کردی جائے تو ہماری کامیابی یقینی ہے 2013 اور2018 کے انتخابات میں تو یہ بات ہر جانب سے کہی گئی،آج پھر ایسی ہی آوازیں آرہی ہیں ان آوازوں میں وہ آواز بھی شامل ہے جو مائینس فارمولے کے موجدوں میں شامل ہیں پھر وہی نعرہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم کو ہٹادیا جائے تو سارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں یعنی مائینس ون فامولہ،لیکن شنید یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ مائینس ون پر اکتفا نہیں کیا جائے گا مائینس کی تعداد بڑھے گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ حکومتیں مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف مختلف اقدامات کرتی رہی ہیں 0 197کی دہائی میں بھٹو صاحب نے اپنی مخالف پارٹی این اے پی(نیپ) پر پابندی لگاکر اسے مقابلے سے باہر کرنے کی کوشش کی تھی جنرل ضیاء الحق نے تو پوری سیاست کو ہی مائینس کردیا تھا ساری سیاسی جماعتوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی تھی اخبارات پر سخت سنسر شپ تھی، اپنی مرضی کی مجلس شوریٰ بنائی اور غیر جماعتی انتخابات کراکے اپنی مرضی کی حکومت بنائی تھی1992 میں نواز شریف حکومت نے مائینس ون فارمولہ متعارف کرایا ایم کیو ایم کے قائد اور بانی کو سیاست سے مائینس کیاجو مستقل نہ ہوسکاپھر خود بھی مائینس فارمولے کا شکار ہوئے مگر ساتھ صدر غلام اسحٰق کو بھی لے گئے 1997-98 میں مائینس کی تعداد بڑھ گئی صدر مملیکت فاروق لغاری،چیف جسٹس پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو مائینس کیا گیا پھرمحترمہ بینظیر بھٹوکو جلاوطنی پر مجبور کرکے انھیں بھی مائینس کرنے کی کوشش کی گئی 2000 میں جنرل پرویز مشرف نے مائینس ٹو فامولہ اپنایا نوازشریف کو جلاوطن کیااور بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر پابندی لگاتے ہوئے اعلان کیا دونوں رہنما ؤں کی پاکستانی سیاست میں اب کوئی گنجائش نہیں اب یہ پاکستان نہیں آسکتے2008 پرویز مشرف خود بھی مائینس ون فارمولے کا شکار ہوئے 2013 اور2018 میں سلیکٹڈ مائینس کا فارمولہ سامنے آیاپیپلز پارٹی اور اے این پی نے کھلے طور پر دعویٰ کیا کہ انھیں انتخابی مہم نہیں چلانے دی گئی انھیں روکا گیا یہی الزام 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے بھی لگائے ان انتخابات میں مبینہ طور پرمائینس نواز شریف فارمولے پر عمل کیا گیا۔

اس سے قبل نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر مائینس ایم کیو ایم قائد فارمولہ استعما ل کیا پہلے ان کی زباں بندی کرائی بعد ازاں بالکل مائینس کرادیا،ستم ظریفی یہ اس مائینس فارمولے جس کے موجدوں وہ شامل رہے ہیں خود بھی بار بار اسی فارمولے کا شکار ہوئے ہیں اس مرتبہ وہ خود ہی نہیں ان کی پارٹی بھی حکومت سے مائینس ہوگئی ہے اب پھر مائینس کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں اس مرتبہ یہ صدا جے یو آئی کے رہنما مولانا فضل الرحمٰٰن کی جانب سے لگائی جارہی ہے جبکہ مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور اے این پی نے اپنا وزن مولانا کے پلڑے میں ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس اگرمدرسوں کی اسٹریٹ پاور ہے تو مزکورہ تینوں جماعتوں کے پاس سیاسی کارکنوں کی اسٹریٹ پاور ہے مولانا نے خاکسار تحریک کے انداز میں کارکنوں کو منظم کرنا شروع کردیا ہے پھر مولانا کا یہ یقین کہ اسٹیبلشمینٹ سیاست سے الگ رہے گی اس سے مولانا کو تحریک کی کامیابی کے امکانات روشن نظرآتے ہیں۔

حکومت کے خلاف تحریک کی کامیابی سے پہلے تحریک چلانے کے اسباب کو دیکھا جاتا ہے پہلے بھی تحریر کیا ہے کہ ملک میں سیاسی تحریک کے لیے حالات پہلے سے بہت زیادہ موافق اور سازگار ہیں بلاول بھٹو زرداری نے مسلسل سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی حکومت کی کی طعنہ زنی کرکے عوام کے ذہنوں کو اس جانب راغب کرلیا ہے دوسری طرف 15 مہینوں میں ملک میں مہنگائی کا جو سیلا ب آیا ہے وہ 15 سالوں میں نہیں آیا نئے روزگار کی بات تو الگ لوگوں کے لگے لگائے روزگار ختم ہوگئے انھیں دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے پھر ان کی کہیں کوئی شنوائی بھی نہیں ہورہی حکومتی نمائندے ہیں کہ سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں الفاظ اور اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں قوم کو الجھانا چاہتے ہیں معیشت کی بحالی اور خسارہ کم ہونے کی باتوں کو عوام کیسے تسلیم کرلیں جب ان کے منہہ سے نوالا تک چھین لیا گیا ہے ان کے بچے اسکولوں سے محروم ہورہے ہوں عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں مزید مہنگائی کا اعلان کررہے ہیں ہمارے اپنے اسٹیٹ بنک کے سربراہ بھی قوم کچھ اور تکلیف برداشت کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ سے کشمیر تک کے معاملات اور خطے کی صورت حال بھی کسی طور حکومت کے حق میں نہیں۔مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ وکلا،مزدور،دوکاندار،ڈاکٹر،صحافی،زمیندار،خوانچہ فروشوں میں یہ بات شدت سے گردش کررہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ہوتے ہوئے حالات بہتر نہیں ہوسکتے لہٰذا مولانا کی تحریک کا ساتھ دیا جائے یہ سوچ اور انداز1968 میں ایوب خان کے خلاف اور 1977 میں بھٹو کے خلاف تحریکوں میں عوام میں دیکھنے میں آیا تھا ان تحریکوں کے نتائج نہ حکومتوں اور نہ ہی ملک کے لیے کوئی اچھے تھے یہ تحریکیں 50اور 40 سال پہلے چلی تھیں کئی دہائیوں کے بعد وقت بہت بدل چکا ہے زمانے نے بہت سے انقلابات دیکھیں ہیں آج کی سوچ پانچ دہائی پہلے جیسی سوچ نہیں ہے لہٰذا نتیجہ بھی نئی سوچ کے مطابق ہوگا اب طرفین کو سوچنا ہے کہ کیا کیا جائے اور کونسا فارمولہ اختیار کیا جائے کہ نتائج مثبت نکلیں۔

ٹاپ اسٹوریز