سونے کی تاریخ

سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر

انسان کی سونے سے رغبت بہت عجیب و غریب ہے۔ کیمیائی طور پر یہ بہت غیر دلچسپ دھات ہے اور دوسرے عنصر کے ساتھ کم ہی ردِعمل دکھاتی ہے۔ تاہم دوری جدول (پیریاڈک ٹیبل) میں سونا واحد عنصر ہے جسے انسانوں نے ہمیشہ کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دی اور محفوظ مستقبل کیلئے اس کو ذخیرہ بھی کیا جاتا تھا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ڈالر کی قیمت کو پر لگے تو سونا بھی پیچھے نہ رہا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھی تو پاکستان میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 93 ہزار کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی۔ ماہرین کے مطابق سونے کی یہ اڑان یہیں نہیں رہے گی بلکہ یہ قیمت آئندہ چند روز میں ایک لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے‘ایسے میں ذخیرہ کرنا تو درکنار ضرورت کے تحت سونے کی خریداری بھی ممکن نظر نہیں آرہی البتہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے وہ آج کل سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خالص سونا خرید رہے ہیں تاکہ آنے والے وقتوں میں اسے مہنگے داموں بیچ کر کر منافع کما سکیں۔

سونا ایک ایسی چیز ہے جوبینک کے لاکر میں رکھا جاسکتا ہے اور یہ وہ پیسہ ہے جسے ٹیکس گوشواروں میں بھی باآسانی چھپا یا جاسکتا ہے یعنی ظاہر نہ بھی کریں تو کوئی حرج نہیں۔ جن لوگوں کے پاس ایسا پیسہ ہے جو وہ اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتے وہ اس سے سونا خرید کر بینک کے لاکر میں رکھ لیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسے بیچ کر اپنی مالی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں تسلسل سے اضافے کی وجہ سے ایک جانب سونا عوام الناس کی پہنچ سے بالکل باہر ہوچکا ہے تو دوسری جانب سونے کے بیوپاریوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔سونے کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سونا اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ سارا ‘ سارا دن گزرنے کے باوجود کوئی خریدار نہیں آتا جس کے باعث ہمارا کاروبار تباہ ہوچلا ہے۔آج لوگ مصنوعی زیورات سے کام چلا رہے ہیں۔ شادی بیاہ جیسی اہم اور یادگار تقریبات میں لوگ مصنوعی زیورات کے استعمال پر مجبور ہیںلیکن ہم قومی معاملات سدھار نے میں بے بس ہیں یہ تو پھر بین الاقوامی معاملہ ہے‘ سونے کی قیمتوں کا اُتار چڑھاﺅ عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے۔

چلئے آج ہم آپ کو مختلف ادوار حکومت کے تناظر میں سونے کی فی تولہ قیمت کے حوالے سے بتاتے ہیں۔ درج ذیل تفصیلات ثابت کرتے ہیں کہ بزرگوں کے اس کہے میں بے حد صداقت تھی کہ ”ہمارے زمانے میں سونا کوڑیوں کے مول بکا کرتا تھا“ مثال کے طور پر 1952 میں87 روپے فی تولہ‘ ہر گزرتے ہوئے سال میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوتا گیا 1953ء میں 91 روپے فی تولہ‘ 1954ء میں 97 روپے فی تولہ ‘1955 میں 103 فی تولہ ‘1956 میں 107 فی تولہ ‘ 1957 میں 111 روپے فی تولہ ‘1958 میں 114 روپے فی تولہ ‘ 1959 میں 133 فی تولہ‘ 1960 میں 131 روپے فی تولہ ‘1961 میں 135 روپے فی تولہ 1962 میں 135 روپے فی تولہ ‘ 1963 میں 124روپے فی تولہ ‘1964 میں 132 روپے فی تولہ ‘ 1965میں 123 روپے فی تولہ ‘1966 میں 134 روپے فی تولہ ‘ 1967 میں 138روپے فی تولہ ‘ 1968میں 138 روپے فی تولہ ‘1969میں 176روپے فی تولہ ‘ 1970 میں 154روپے فی تولہ ‘1971 میں 177روپے فی تولہ ‘1972میں 246روپے فی تولہ ‘1973میں 432 روپے فی تولہ ‘1974 میں 562 روپے فی تولہ ‘1975میں 714 روپے فی تولہ ‘1976 میں 535 روپے فی تولہ ‘ 1977 میں 597 روپے فی تولہ فروخت ہوا۔

اس کے بعد ضیا ءالحق کے دور یعنی 1978سے1987ءکے دوران سونے کی قیمت میں پانچ سے چھ گنا اضافہ عمل میں آیا ۔ 1978میں 714روپے فی تولہ ‘1979میں 1230روپے فی تولہ ‘ 1980 میں 2250روپے فی تولہ ‘1981میں 1920روپے فی تولہ ‘1982میں 1636روپے فی تولہ ‘1983میں 2244روپے فی تولہ ‘1984میں 2156روپے فی تولہ ‘1985میں 2123روپے فی تولہ ‘1986میں 2478روپے فی تولہ ‘1987 میں 3300روپے فی تولہ فروخت ہوا۔اس کے بعد جمہوری دور آیا اور سال1988میں سونا 3478روپے فی تولہ ‘1989میں 3275روپے فی تولہ ‘ 1990میں 3320روپے فی تولہ ‘1991 میں 3705روپے فی تولہ ‘1992 میں 3345 روپے فی تولہ ‘ 1993 میں 4127روپے فی تولہ ‘1994 میں 4700روپے فی تولہ ‘1995 میں 4722فی تولہ‘1996 میں 5500روپے فی تولہ ‘ 1997 میں 5100روپے فی تولہ ‘1998 میں 6150روپے فی تولہ ‘1999 6100فی تولہ تک پہنچی ۔

2000 سے سونے کی قیمت میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوا یعنی اس سال سونا 6150روپے فی تولہ فروخت ہوا۔ اس کے بعد 2001میں 6550 روپے فی تولہ ‘2002 میں 7200فی تولہ ‘ 2003 میں 8300روپے فی تولہ ‘2004میں 9500روپے فی تولہ ‘2005میں 10600 روپے فی تولہ ‘ 2006 میں 13500 روپے فی تولہ ‘ 2007 میں 15200 روپے فی تولہ ‘2008میں 23500روپے فی تولہ ‘ یعنی 8سال میں چار گنا اضافہ عمل میں آیا۔ اب پیپلز پارٹی یعنی زرداری کے دور حکومت کی بات کرتے ہیں 2009میں 29500روپے فی تولہ ‘2010 میں 38500روپے فی تولہ ‘ 2011 میں 45800 سے لے کر54700روپے فی تولہ ‘2012 میں53700 سے 63300روپے فی تولہ 2013 میں62250 سے 49500 روپے فی تولہ ۔

اب شروع ہوتا ہے نواز شریف کا  دور حکومت جس میں 2014 میں 47000 سے 50200 روپے فی تولہ ‘ 2015 میں 44450 سے 49000 روپے فی تولہ ‘2016 میں 44200 روپے سے 49800 روپے فی تولہ جبکہ 2017ءمیں 49600 سے56200 روپے فی تولہ رہا ۔

سونے کی قیمتوں نے 2018 میں آسمان کو چھونا شروع کیا‘ اس سال سونے کی قیمتیں 56200 روپے فی تولہ سے تجاوز کرتے ہوئے68000 روپے فی تولہ تک آئیں جبکہ 2019 میں 73430 روپے فی تولہ سے 85660 روپے فی تولہ تک آیا جبکہ نیا سال آتے آتے تادم تحریر سونے کی قیمتیں 93000 سے زائد ہیں جسے تاریخ کی بلند ترین سطح قرار دیا جارہا ہے۔

 

ٹاپ اسٹوریز