مصنوعی بحران اور عوام

خبر ہونے تک

گڑھی خیرو فوڈ گودام سے 88 ہزار گندم کی بوریاں غائب

پاکستان میں بحران اور ٹائیمنگ کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ایک خاص مدت کے لیے مصنوعی بحران پیدا کیے جاتے ہیں آہ و بکا مچائی جاتی ہے میڈیا بھی شریک بحران ہوجاتا ہے یہی صورت حال موجودہ آٹے، چینی اور دیگر اجناس کے بحران کی ہے ٹائیمنگ کے ساتھ یعنی مدت پوری ہونے پر اچانک بحران ختم ہو جاتا ہے بحران پر قابو پانے کے دعوے کیے جاتے ہیں شکر ادا کیا جاتا ہے اورمعمولات بحال ہوجاتے ہیں اس دوران عوام پر کیا گزری کوئی نہیں پوچھتا ہے ایک ماہ کے بحران میں عام آدمی کا بجٹ آؤٹ ہوجاتا ہے یعنی دگنا ہوجاتا ہے مڈل کلاس ہاتھ ملتے رہ جاتی ہے بچوں کے اسکول فیس سودا سلف میں خرچ ہوجاتی ہے مکان کرایہ تاخیر کا شکار ہوجاتا ہے قسطوں کی ادائیگی متاثر ہوجاتی ہے مصنوعی بحران انجام کو پہنچنے پر حکومتی نمائندے زور لگا کر چیخ رہے ہوتے ہیں بڑی مشکل سے اس بحران پر قابو پایا ہے اپوزیشن گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہی ہوتی ہے کہ حکومت کی نااہلی ہے،حکومت کی بدعنوانی ہے اسے جانا ہوگا۔

عوام ٹیبل ٹینس کی بال کی طرح کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن کو دیکھ رہی ہوتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دونوں ایک ہی کھیل کھیل رہے ہیں کوئی جیتے یا ہارے فائدے میں دونوں ہی رہتے ہیں کیوں کہ حکومت اور اپوزیشن کے 80 فیصد لوگوں کا تعلق ذراعت سے ہے ایسے مصنوعی بحرانوں میں کسی نہ کسی طرح اور کہیں نہ کہیں وہ بھی مستفید ہوتے ہیں باقی 20 شہری سرمایہ دار بھی سیاست دانوں کے فنانسر ہوتے ہیں جو مصنوعی بحران کے ماسٹر مائنڈ ہوتے ہیں یہی کیفیت ہمارے ان مصنوعی بحرانوں کی ہے فائدے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی رہتے ہیں تیل نکلتا ہے تو بے چاری عوام کا۔ایک وقت تھا کہ چینی پر چار آنے بڑھنے سے ایوب خان کی حکومت کو جانا پڑگیا تھا آج دس روپے کی چیز سو روپے کردی جاتی ہے سیاسی جماعتوں کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی آخری وقت میں میڈیا پرآکر حکومت کو برا بھلا کہہ کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنا حق ادا کر دیا ایسا ہی کچھ ان دنوں پاکستان کے عوام کے ساتھ ہورہا ہے یہ بحران عالمی بنک،آئی ایم ایف،امریکہ یا کسی اور کا نہیں یہ ہمارے اپنے ان لوگوں کا پیدا کردہ ہے جو لوٹ کھسوٹ پر ایمان رکھتے ہیں جن کے نزدیک ملک قوم عوام کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

آٹے اور چینی کا بحران کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا عوام کو کوئی پہلی مرتبہ نہیں نچوڑا گیا یہ بار بار ہوتا ہے 1997میں میاں نواز شریف کی حکومت کے دوران بھی اسی طرح کا بحران پیدا کیا گیا تھا اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف سندھ سے زبردستی گندم پنجاب لے گئے احتجاج کرنے پر سندھ کے وزیر خوراک کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے پرویز مشرف کے دور میں چینی کا بحران پیدا کیا گیا اس وقت وفاقی وزیر جہانگیر ترین کا نام بحران پیدا کرنے والوں صف اول میں لیا جارہا تھا آج بھی ان کے نام کے ساتھ یہ بحران جوڑا جارہا ہے بات صرف ایک دو بااثر افراد کی نہیں ہے لگتا ہے ملک میں ایک ایسا کارٹل بنا ہوا ہے جس میں وزرا،بیوروکریسی،حکومتی فنانسر بزنس مین اور بڑے زمیندار شامل ہیں جو منصوبہ بندی کے ساتھ عوام کا خون نچوڑتے ہیں اور حکومتی خزانے خالی کرتے ہیں یہ بات زور دے کر کہی جارہی ہے کہ جولائی2019 سے فلور ملز ایسوسی ایشن حکومت کو لکھتی رہی تھی کہ گندم کی برآمدات بند کی جائیں اگر بند نہ کی گئی تو ملک میں گندم کا بحران پیدا ہوجائے گالیکن نہ پی ایم سیکریٹیریٹ نہ وزارت تجارت اور نہ ہی تاجروں نے اس پر کان دھرے ملکی قومی اور عوامی مفادات کو ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا پاکستان وہ ملک ہے جس کی 80 فیصد معیشت ذراعت پر انحصار کرتی ہے اس ملک میں ٹماٹر 300 روپے کلو آٹا70 روپے چینی80 روپے دودھ 110 روپے دیگر اشیائے ضرورت دگنی اور چوگنی قیمتوں پر فروخت ہوں تو ملک کا نظام چلانے والوں کے علاوہ اپوزیشن کو بھی کیا کہا جاسکتا ہے سوائے اس کے کہ وہ خود اس منافع خوری کے حصہ دار ہیں۔

پاکستان میں گندم کی پیداوار ضرورت سے دگنا ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ پھر یہ بحران کیوں؟ جیسا کہ تحریر کیا ہے کہ مصنوعی بحران ایک منصوبے کے تحت پیدا کیا گیا جب ملک میں ضرورت سے زیادہ گندم تھی تو وہ کہاں گئی کیا محکمہ شماریات نے حکومت بالخصوص وزارت تجارت کو نہیں بتایا کہ کتنی گندم ہے اور ضرورت کتنی ہے کتنی اور کب تک برآمد کی جاسکتی ہے اگر نہیں بتایا یہ سنگین جرم ہے وزارت تجارت نے کیسے بلا روک ٹوک برآمد کی اجازت دی اس کا سخت نوٹس لیا جانا چاہیے ذمہداروں کا تعین کرکے ملکی قوانین کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے اور عوام کی جیبوں پر چند دنوں جو ڈاکہ ڈالا گیا اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے ملک میں اضلاع اور صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت کا ایک مکینزم ہے اس کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا ذاتی مفاد کی خاطر پہلے گندم ایک خاص منافع کے ساتھ باہر بھیجی جاتی ہے پھر بحران کے نام پر باہر سے مزید مہیگی گندم درآمد کرلی برآمد اور درآمد دونوں میں منافع کمایا جاتا ہے اس طرح کے کام بااثر حکومتی نمائندوں کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا یوں لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کوئی قانون نہیں کوئی نظام نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے یہاں تک کہا جارہا ہے کہ مافیانظام چل رہا ہے۔سب سے بڑا المیہ عوامی سوچ اور انداز کا ہے جس کی قوت مزاحمت اور مدافعت کو ختم کردیا گیا ہے وہ بھی دو نمبری کے ذریعے اپنا بجٹ پورا کرنا چاہتی ہے سیاسی جماعتوں نے عوام کو جس طرح بے یارومددگار چھوڑا ہے اس نے ملکی نظام کو کھوکھلا کرنا شروع کردیا ہے ابھی تو عوام مختلف نعروں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں سے جڑے ہوئے ہیں خوف اس وقت کا ہے جب یہ عوام جن کے پاس کھونے لیے کچھ نہیں ہے از خود سڑکوں پر نکل آئے تو پھر کیا ہوگا۔

ٹاپ اسٹوریز