کورونا وائرس کا خوف

خبر ہونے تک

چین سے سرجیکل ماسک کی بڑی کھیپ پاکستان روانہ

پاکستان کی اندرونی صورت حال پر ان دنوں عالمی بالخصوص پڑوسی ممالک کی صورت حال کے گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اس صورتحال میں ایک طرف کورونا وائرس ہے جس نے دنیا بھر کو خوف میں مبتلا کردیا ہے تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ بھارت اور امریکہ طالبان معاہدہ ہے اس صورت حال نے ملک کی اندرونی سیاسی،معاشی اور انتظامی صورت حال کو پس منظر میں ڈال دیا ہے یقینی طور پر اپوزیشن کو شدید نقصان ہورہا ہے جس ”مارچ“ کے لیے وہ مارچ کا انتظار کررہی تھی وہ انتظار طویل ہوتا نظر آرہا ہے دوسری طرف حکومت بھی وہ فائدہ اٹھاتی نظر نہیں آتی جو اس عالمی منظر کی وجہ سے اسے مل سکتا ہے ملک کے اندر گو مگوں کی کیفیت ہے خوف کا ماحول ہے ہر کوئی ڈرا سہما ہوا ہے کہ کہیں اس کو کورونا وائرس نہ لگ جائے حکومت طبی طور پر تو اس کے تدارک کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے لیکن خوف ختم کرنے کے بجائے ایسی باتیں کی جارہی ہیں کہ خوف میں مزید اضافہ ہورہا ہے مختلف ممالک کے شہریوں کو وائرس زدہ ممالک کا سفر نہ کرنے کی مشورہ اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنا عالمی روابط اور تعلقات میں خلیج کے مترادف قرار دیا جارہا ہے سعودی عرب جیسے ملک نے عمرہ زائرین تک کے ویزے منسوخ کردیے جو خوف کی انتہا ہے۔

کورونا وائرس نے انسانی زندگیوں کو اس قدرنقصان نہیں پہنچایا جس قدر اس نے عالمی معیشت اور عالمی تعلقات کو نقصان پہنچایاہے عالمی معیشت کی اس تباہ کاری میں عالمی میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا آگ پر تیل ڈالنا ایک دانشتہ فعل ہوتا ہے لہٰذاکورونا  وائرس کے معاملے میں بھی میڈیا نے دانشتہ یہ کام کیا ہے اس کا صاف اور کھلا مقصد یہ ہے کہ کوروناوائرس کے جنم سے لے کر اس کے دنیا میں پھیلنے تک کا معاملہ ایک خاص مقصد کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے یقینا اس کے مالی اور ملکی مفاد ہوں گے ایسا لگتا ہے عالمی سطح پر بڑی اقتصادی طاقتوں کے درمیان جاری معاشی جنگ کا ایک حصہ ہے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف ذرائع سے مختلف میڈیا پر آنے والی اطلاعات میں ایک بات تو قدر مشترک ہے اور اس پر اتفاق بھی نظر آتا ہے کہ یہ ”کورونا وائرس“ لیباٹری میں تحقیق کا نتیجہ ہے مگر اتنا خطرناک اور مہلک نہیں جتنے اس سے پہلے والے وائرس تھے مثلاً ٹی بی اور جزام جیسے وائرس کے علاج کے لیے تو اسپتال آبادیوں سے دور بنائے جاتے تھے ماضی قریب میں برڈ فلو،سائن فلو ڈینگی جیسی صورت حال کا بھی سامنا کرچکے ہیں کیا کورونا ان سے زیادہ خطرناک ہے؟ایک اتفاق اور نظر آتا ہے کہ یہ وائرس زیادہ عمر کے لوگ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ان پر حملہ کر سکتا ہے اور اس سے اموات کی شرح بھی اس سے پہلے کے وائرس کے مقابلے نصف سے بھی کم ہے لیکن اس کاپروپیگنڈہ اس قدر کیا گیا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی وبا دوڑی چلی آرہی ہے اور ابھی کسی سے ٹکرا جائے گی اور اس کا کام تمام ہوجائے گا اس پروپیگنڈے نے دنیا بھر میں کھربوں ڈالرز ڈوبا دیے عالمی اور ملکی اسٹاک ایکسچینج کریش کر گئیں چین جو ایک بڑی معاشی طاقت بن گیا تھا سب سے زیادہ متاثر وہی ہوا ہے ایک بات اور گردش میں ہے اور کافی حد تک اس پر بھی اتفاق ہے یہ ایک”بائیولوجیکل ہتھیار“ ہے مگر اس میں اختلاف ہے کہ یہ ہتھیار بنایا کس نے ہے؟کوئی امریکہ کو مورد الزام ٹہراتا ہے تو کوئی برطانیہ کو اور کچھ تو چین پر بھی یہ الزام لگانے سے نہیں چوکتے اور کہتے ہیں کہ چین کی لیبارٹری میں کوئی مس ہینڈل ہوا ہے جس کا یہ نتیجہ نکلا،کورونا وائرس کیا اور کیسے ایک ٹیکنکل معاملہ ہے سائنسداں ہی اس کا فیصلہ کر پائیں گے لیکن اس نے جس طرح ملکوں کی عام زندگی کو متاثر کیا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے پروپیگنڈے سے براہِ راست متاثر ہوا ہے کراچی جیسا شہر جہاں دن تو دن رات کو بھی ٹریفک کا اژدہام رہتا تھا کئی دنوں سے اس کی سڑکیں سنّاٹے میں ڈوبی ہیں کاروباری مراکز،ریستوران خالی ہیں گزشتہ گیارہ سال سے ہونے والا کراچی ادبی میلہ بھی اجڑا اجڑا دکھائی دے رہا تھا یہی صورت حال ملک دیگر شہروں کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران بھرے جلسہ عام میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی تعریف کرکے جس ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا اس کا اس نے فوری فائدہ امریکہ اور طالبان معاہدے کی صورت حاصل کر لیا لیکن افغانستان کے اندر حکومت اور طالبان شاید ایک صفحہ پر نہیں ہیں جس کی وجہ سے معاہدے کے دوسرے روز ہی اختلافات سامنے آگئے ساتھ ہی ایران نے بھی معاہدہ مسترد کرتے ہوئے امریکہ کے کردار کی نفی کی ہے اس صورت حال کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑے گا پاکستان جو طالبان معاملے کوبیس سال سے سے حل کرنے کوشش کررہا ہے وہ حل ہونے کے قریب ہونے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ڈولتا نظر آتا ہے ڈونلڈٹرمپ نے اپنے ذاتی اور امریکی مفادات کے تحت زبردست قسم کی ڈپلومیسی کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کیاتھا نومبر امریکہ میں انتخابات کا مہینہ ہے پچھلے انتخابات میں ٹرمپ نے افغانستان سے سے فوجیں نکالنے کا وعدہ کیا تھا لہٰذا اس نے اپنے ذاتی اور اپنے ملک کے مفاد میں پاکستان کی تعریف کرکے معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار کی تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھاسکے یوں اس نے پاکستان کو استعمال کیا تاہم فائدہ تو عمران حکومت کو بھی اعتماد اور حوصلہ ملنے کی صورت میں ہوا لیکن پاکستان کی سطح پر صورت حال میں بہتر ی آنا ابھی باقی ہے افغان حکومت اور ایران حکومت کا کردار کسی طور پاکستان کے حق میں نظر نہیں آتا اس ساری صورت حال میں اپوزیشن مہنہ میں انگلی دبائے بیٹھی ہے کہ وہ اپنی تحروروک کہاں سے اور کیسے شروع کرے۔

ٹاپ اسٹوریز