فاروق عادل
فاروق عادل

ہماری سیاست کے جڑواں بچے

ہماری سیاست کے دو جڑواں بچے تھے،چند برس ہوتے ہیں، ان میں سے ایک سیاسی کشمکش کی نذر ہو کر

بخار اتاریں

اقوام متحدہ کی عظیم الشان عمارت مجھے کئی وجہ سے یاد ہے، اُس دوپہر جب اِس عالمی ادارے کی دہلیز

عالی دماغ

سراج منیر مرحوم کو بس دو ایک بار ہی دیکھا۔ یہ سن اکیاسی یا بیاسی کی بات ہو گی۔ اشفاق

شنگھائی تعاون تنظیم اور کشمیر

روس کے ایشیائی دارالحکومت اورن برگ میں ان دنوں مختلف تہذیبوں کے رنگ بکھرے ہیں اور شہر والے سوچتے ہیں

تند وتیز ندی کا اترنا

پروفیسر، ڈاکٹر اور شیخ الاسلام کے مناصب ابھی تک انھوں نے نہیں سنبھالے تھے لہٰذا صرف علامہ کہلاتے تھے۔ ٹیلی

وفاقی کراچی

موجودہ ایم کیو ایم کے سب سے نفیس چہرے اور اس حکومت کے قانونی دماغ بیرسٹر فروغ نسیم نے آئین

ڈیجیٹایز اردو

اس زمانے میں لوہے اور سیمنٹ کا جنگل ابھی چھدرا تھا، لہٰذا شام ڈھلے جب ہم جامعہ کراچی سے نکلتے

بھارت کا خلائی مشن

ناگاہ ایک خبر نظرسے گزری تو ترکی کے شاعر کبیر حضرت محمد عاکف ایرصوئے کی یاد آئی۔ خبر یہ تھی

بی ایم کٹی، عہد اور شخصیت

بی ایم کٹی کے ذکر پراوّل دل میں ایک گدگدی سی ہوتی ہے، اس کے بعد یادوں کی پٹاری کھل

کراچی، کچرا اور سیاست

بارہ پندرہ برس ہوتے ہیں، میاں محمود عمر لاہور سے کراچی تشریف لائے۔ میاں صاحب فی الاصل تو شاعر تھے

ٹاپ اسٹوریز