فاروق عادل
فاروق عادل

جو بھرم بچا تھا، نہیں رہا

امام اختلاف حضرت حسن نثار جو بات ایک زمانے سے کہتے چلے آ رہے ہیں، اس حکومت کے نفس ناطقہ

کشمیر، ادیب اور ضمیر

بات ارون دھتی رائے سے شروع ہوئی اور دور تک پہنچی۔ ہمارے دوستوں میں راؤ فضل کا شمار ان لوگوں

ایک اور دریا کا سامنا

وہ جھاگ اڑاتا، شور مچاتا اور بل کھاتا دریائے کھرمنگ تھا جس کے کنارے کھڑی جیپ میں ہم بیٹھے تو

اب آپ یہ کریں

سقوط کشمیر تو ہو گیا، اب اس کے بعد؟ وہی عمران خان والی بات کہ کیا کریں، بھارت پر حملہ

آتش فشاں میں چھپے امکانات

ہمارے ایک بزرگ تھے، مولانا ظفر احمد انصاری، قائد اعظمؒ کے قابل اعتماد ساتھی، آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ

کنارِ بحر گیلان

ابھی ایک دوست نے پوچھا، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر کیا کہتے ہو؟سوال مشکل تھا، میں سوچ

دانشوری سے سیاست تک

عرفان صدیقی صاحب کی دلچسپ گرفتاری اور رہائی سے پہلے ایک واقعہ اور بھی ہو گزرا ہے، ہمارا یار عزیز

ٹرمپ کا نہلا

وہ جو ملنے سے گریزاں تھے، بالآخر دانش مندوں کی طرح مل بیٹھے اور کچھ کام کی باتیں بھی ان

یاغستان میں نئی صبح

ہمارے قبائلی علاقے سابق ہو چکے تھے، اللہ کا شکر ہے کہ اب الیکشن بھی ہو گئے۔ جیتنے والے جیت

شاہ زندہ کی روٹیاں 

شاہ زندہ کی سیڑھیاں دکھائی دیں تو میزبان نے کہا، ذرا رک جائیے، پھر کہا کہ اب یہ سیڑھیاں آپ

ٹاپ اسٹوریز