میرے عزیز ہم وطنو ۔۔۔

میرے عزیز ہم وطنو ۔۔۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو ہر سال پانچ جولائی کو کانوں میں گونجتے ہیں کیونکہ یہی وہ سیاہ دن ہے جب 1977 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ضیاالحق نے پاکستان کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور سابق  وزیراعظم  ذوالفقارعلی بھٹو کو برطرف کر کے ملک میں تیسرا مارشل لا نافذ کیا تھا۔

جنرل ضیا الحق نے اپنے پہلے ریڈیو اور ٹیلی ویژن خطاب میں منتخب وزیراعظم پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے آئین کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی حقوق معطل کرنے کا اعلان کیا، ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو پابند سلاسل اورعام لوگوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔

پہلے آئین کی معطلی اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے ملک کی سیاسی بنیادیں ہل گئیں اور گیارہ سال تک عوام پر طویل آمرانہ قیادت مسلط کر دی گئی، اس دورِ حکومت میں جمہوریت پسندوں پر کبھی سر عام اور کبھی جیلوں میں کوڑے برسائے گے۔

جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے ملک میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا جو آٹھ سال کے طویل انتظار کے بعد وفا ہوا۔

1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پرانتخابات کرائے گئے لیکن جنرل ضیاالحق نے اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو بھی کچھ عرصے بعد گھربھیج دیا۔

جنرل ضیا کا آمرانہ دورِحکومت 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے نزدیک ایک فضائی حادثے کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچا اور عوام نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔

آج پھر پانچ جولائی ہے، 41 سال پہلے انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں چلنے والی تحریک کو مارشل لا کے انقلاب سے کامیاب کرایا گیا۔ توقع تھی کہ ایسا تاریک دور پھر کبھی واپس نہیں آئے گا لیکن کیا کہیے کہ پاکستان کی تاریخ بہت جلد خود کو دہرانے لگ جاتی ہے۔ 1999 میں ایک اور طالع آزما نے جنرل ضیا الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایسی ہی مہم جوئی کی لیکن صد شکر کہ 2008 میں پاکستان ایک بار پھر جمہوریت کے راستے پر آنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس وقت قوم مسلسل تیسری بار اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور یقین ہے کہ کچھ ہفتوں بعد پاکستان جمہوریت کی ایک اور صبح طلوع ہوتے دیکھے گا۔

یہ حقیقت اپنی جگہ لیکن ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے اور گزشتہ دس سالہ جمہوری دور میں بی کئی ایسی کوششیں ہو چکیں جن سے ہر لحظہ یہ خطرہ رہتا تھا کہ جمہوریت کی بساط کسی بھی وقت لپیٹی جا سکتی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان قومی اتحاد نے 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کی۔ درجنوں دانشوروں اور پی این اے کے قائدین نے اس تحریک اور جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے متعلق کتابیں لکھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر تمام قائدین خلوص نیت کے ساتھ تحریک چلا رہے تھے۔

اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات شروع کیے گئے۔ تمام سیاسی قائدین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے)  اور حکومت کے درمیان تمام معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا لیکن اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ جس رات مذاکراتی کمیٹی نے کامیابی کا اعلان کیا اسی رات شب خون مارا گیا۔

پانچ جولائی 1977 کے مارشل لا نے کسی سیاسی رہنما کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ مرحوم ایئر مارشل محمد اصغرخان پر الزام لگایا جاتا رہا کہ انہوں نے خط لکھ کر فوج کو کارروائی کی دعوت دی لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اصغرخان نے جنرل ضیا الحق کے دورحکومت میں پانچ سال نظربندی میں بھی گزارے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے مارشل لا کسی سیاست دان کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے لگایا تھا کیونکہ فوج کسی کے لیے کبھی سیڑھی نہیں بنتی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سیاست دان ان کے لیے سیڑھی بنتے رہے ہیں۔
جنرل ضیا الحق نے اپنا نظام بنایا، اپنے سیاست دان بنائے اور گیارہ سال ڈٹ کر حکومت کی۔ قوم اور ملک کے مسائل کو ڈنڈے کے زور پر حل نہیں کیا جاسکتا لیکن جنرل ضیا الحق نے ایسا ہی کیا حالانکہ  آج بھی دنیا کا بہترین نظام جمہوریت کا نظام ہے۔

پانچ جولائی 1977 کو منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹا گیا لیکن یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جنرل ضیا الحق نے خود ساختہ جمہوری نظام کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔ تین بلدیاتی انتخابات، صوبوں کی اسمبلیاں اور مجلس شوریٰ بنا کر عوام کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے براہ راست لوگوں کو شریک کیا گیا۔

جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگا کر بھی بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات کرائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام کی شمولیت ہی ضروری ہے اور جمہوری نظام ناگزیر ہے تو پھر پانچ جولائی 1977 اور تین نومبر 1999 کی کیا ضرورت تھی۔

پانچ جولائی 1977 کا دن ہمیں سبق سکھاتا ہے کہ سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوں اور اسٹیک ہولڈرز کو برداشت پیدا کرنی چاہیئے۔ 2008  کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کو بڑی پارٹیوں کی حیثیت ملی۔ دونوں پارٹیوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو برداشت کیا اور سخت مخالفت کے باوجود حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیے گئے۔

2013 میں منتخب ہونے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود مسلم لیگ نون کی حکومت نے شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں پانچ سال پورے کیے۔ اس میں شک نہیں کہ نون لیگ کو عمران خان کی صورت میں ایک سخت گیر نقاد اور طاقتور سیاسی حریف کا سامنا کرنا پڑا لیکن دھرنوں، جلسوں، لاک ڈاؤن اور بھرپور عوامی ریلیوں کے باوجود حکومت اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی۔

ممکن ہے کہ اس بات سے بیشتر لوگوں کو اختلاف ہو لیکن حالات کا بہ نظرغائر جائزہ لیں تو اس دس سالہ جمہوری دور کا کریڈٹ سیاست دانوں سے زیادہ ان شخصیات کو جاتا ہے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد فوج کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی اور پہلے جنرل اشفاق پرویز کیانی اور بعد میں جنرل راحیل شریف نے اس عمومی تاثر کو قطعی طور پر زائل کر دیا کہ فوج اقتدار میں شراکت چاہتی ہے۔ ان کے جانشین اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے پیشروؤں کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا اور درجنوں بار جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کے لیے ان خدشات کو دور کیا جو ماضی میں کسی خودرو پودے کی طرح  نمودار ہو جایا کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اب یہ بات مکمل یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پاک فوج جمہوریت کی صرف خیر خواہ ہی نہیں بلکہ سب سے بڑی محافظ بھی ہے۔

ایسا ہی کچھ عدلیہ کی جانب سے بھی سننے اور دیکھنے کو ملا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اب ملک میں کسی مارشل لا کی کوئی گنجائش نہیں اور خدا نخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو عدلیہ اس کا راستہ روکنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی۔

آج پانچ جولائی کو یہ الفاظ لکھتے ہوئے دل کے نہاں خانوں میں جانے کیوں یہ خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ جو جذبہ ہمیں چیف جسٹس اور آرمی چیف کے قول و فعل میں نظر آ رہا ہے ویسا ہی کچھ سیاست دانوں میں بھی دکھائی دے تاکہ ہمیں پھر کبھی ’میرے عزیز ہم وطنو‘ کے الفاظ نہ سننے پڑیں۔

ٹاپ اسٹوریز