بھارتی جمہوریت حقیقت یا افسانہ

یہ 30 اگست 1999 کی شام تھی جب دنیا کہ نقشے پر ایک نئی مملکت کا وجود قیام عمل میں آیا اس ملک کا نام مشرقی تیمور تھا۔ آزادی سے قبل یہ ملک انڈونیشیا کا حصہ تھا، انڈونیشیا جو ایک وقت میں مسلمانوں کا دنیا سب سے بڑا ملک مانا جاتا تھا، اس کی معاشی اور دفاعی طاقت بھی کسی سے کم نہیں تھی، اور اگر انڈونیشیا چاہتا تو بزور طاقت مشرقی تیمور کی عوام کے حقوق پر غاصب ہو سکتا تھا لیکن انڈونیشیا کے اس وقت کے صدر بی جے حبیبی نے بذات خود اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ مشرقی تیمور میں ریفرنڈم کرایا جائے جس سے یہ جانا جائے کہ آخر مشرقی تیمور کی عوام انڈونیشیا کہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اس ریفرنڈم کا نتیجہ انڈونیشیا کہ خلاف آیا اور انڈونیشیا کی حکومت نے مشرقی تیمور کی عوامی رائے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے مشرقی تیمور کو آزاد کر دیا۔

دوسری جانب گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس کے حق میں قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کی ہوئی ہے لیکن بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانا چاہتا ہے، اس نے نہ صرف کشمیریوں کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں بلکہ بھارت نے نہتے کشمیریوں کے خلاف لاکھوں کی فوج تعینات کی ہوئی ہے جس کے ردعمل میں کشمیری مظلوم نوجوان قلم کے بجائے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔

کشمیری عوام پر ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ کشمیری عوام سیاسی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے بھارت کے اسیر ہیں اور اس مسئلے نے نہ صرف کشمیری عوام کو متاثر کیا ہے بلکہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے عام عوام بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد جنگوں کا باعث بنا جس کی وجہ سے دونوں جانب نہ صرف قیمتی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ معاشی لحاظ سے بھی دونوں ملکوں کے عوام مزید غربت کے شکار ہوئے۔

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالی جائے تو مشرقی تیمور اور کشمیر کے حالات و واقعات میں کوئی خاص فرق نہیں۔ مشرقی تیمور ایک آزاد ریاست تھی جس پر پرتگال نے سن 1702 میں قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی بنا لیا اسی طرح کشمیر بھی ایک آزاد ریاست تھی جس پر تاج برطانیہ قابض ہو گیا۔ 1975 میں پرتگال نے مشرقی تیمور کو آزادی دی تو انڈونیشیا نے اس خطے کو اپنے زیر نگیں کر لیا اسی طرح 1947 میں بر صغیر کی آزادی کے وقت بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ۔

اس کے بعد کشمیری عوام نے آزادی کی جنگ بھی لڑی اور کچھ حصہ آزاد کرا لیا جو کہ آج بھی آزاد کشمیر کی صورت میں موجود ہے۔ جہاں پر لوگ خوشحال ہیں اور کسی بھی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کو یہاں رہنے اور کام کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ دوسری جانب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی بین الاقوامی ادارے کو آنے اور بطور مبصر رہنے کی اجازت نہیں ۔ اس پابندی کے باوجود بین الاقوامی اداروں کی خاموشی ان کے کردار پر سوال اٹھا نے پر مجبور کرتی ہے یہ بین الاقوامی قوتوں اور اقوام متحدہ کی سراسر ناکامی ہے کہ وہ آج تک کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق نہ دلا سکے۔

آخر بھارت کشمیری عوام کو حق خود ارادی کا اختیار کیوں نہیں دے رہا؟ بھارت کو یہ یقین ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں ہیں لیکن بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت کی طاقت تو عوام ہی ہوتی ہےاور اگر کشمیری عوام بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو بھارت کو ان کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔ بھارت کے اس عمل سے یقیناً بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا حق حاصل کر لے گا ۔

کشمیر بھارت کا واحد خطہ نہیں جہاں آزادی کی تحریک چل رہی ہو، کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب، آسام اور میزورام میں بھی آزادی کی تحریکیں وجود رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر خالستان تحریک زور پکڑ چکی ہے۔ سکھ فار جسٹس موومنٹ 2020 میں آزادی کے لئے پوری دنیا میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔ ان تحاریک کو کچلنے کے لئے بھارت پورا ریاستی دباؤ لگا رہا ہے۔ بین الاقوامی طور پر بھی بھارت پوری کوشش کر رہا ہے کہ ان عوامی تحاریک کو کچلا جائے۔ ایک طرف تو بھارت آزادی رائے کا سب سے بڑا علمبردار بننے کی بات کرتا ہے تو دوسری جانب وہ کشمیر میں میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک جیسے پر امن سیاسی رہنماؤں کو قید میں ڈال رہا ہے۔

آخر یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں پر امن طور پر حق مانگنے والوں پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں؟ کینیڈا سمیت دنیا بھر میں موجود بہت سے مشرقی پنجاب کے سکھ رہنما اور عوام آج بھی گولڈن ٹیمپل میں ہوئے ظلم کو بھولے نہیں ہیں۔ آسام میں موجود مقامی لوگوں پر بھارتی ظلم بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔دوسری جانب بھارت پاکستان کے بلوچستان کو لیکر کافی پریشان نظر آتا ہے، بھارت کے مطابق پاکستان ،بلوچ عوام سے زیادتی کر رہا ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ما ما قدیر جو اپنے نظریات کے لحاظ سے کافی قابل اعتراض رہے، انہیں بھی پورے پاکستان میں گھومنے پھرنے کی آزادی رہی ،نہ صرف پاکستان بلکہ وہ جنیوا تک گئے۔

پاکستانی حکومت نے ان سمیت کسی بھی بلوچ کے حقوق غصب نہیں کئے۔ بلوچستان میں پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا، لوگوں نے اپنی قیادت کو چنا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تو بلوچستان کی عوام آزادی مانگ رہی ہے اور نہ ہی حق خود ارادیت۔ بھارت کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ اس ہی وجہ سے بھارت کو اپنے ملک میں موجود عوام کا سوچنا چاہیئے اور اسے پاکستان کی فکر چھوڑ دینی چاہئے ۔

مسئلہ کشمیر کا پر امن حل صرف کشمیری عوام کو اس کا حق خود ارادیت دے کر ہی حا صل کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کو جمہوری رویہ اپناتے ہوئے کشمیر اور بھارت میں بسنے والی دیگر اقوام کو آزادی رائے کا حق دینا چاہئے، بین الاقوامی برداری کو بھی اپنی معاشی مجبوریوں کو بال طاق رکھ کر کشمیری اور دیگر مظلوم اقوام کے بارے میں سوچنا چاہیئے اور دوہرا نظام اپنانے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ مشرقی تیمور کی طرح جلد از جلد کشمیر میں ریفرنڈم کرائے او رساتھ ہی ساتھ 2020 میں ہونے والے خالستان کے ریفرنڈم کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔ ان مسائل کا پر امن حل ہی جنوبی ایشیا کے عوام کے لئے پر امن مستقبل کی نوید ہوگا۔ بھارت بھی ان مسائل کے حل ہونے کے بعد ترقی کر سکے گا اور دنیا میں اپنے آپ کو حقیقی جمہوریت کہلانے کا شرف حاصل کر پائے گا۔

ٹاپ اسٹوریز