ذہنی دباؤ پر روایتی دوائیں بےاثر

لندن: جاپانی سائنس دانوں نے ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کی تین ذیلی اقسام دریافت کی ہیں، جن میں سے ایک کا روایتی دواؤں سے علاج ممکن نہیں جبکہ ان کا تعلق بچپن کے صدمات اور دماغ کے حصوں کے مابین قریبی باہمی روابط سے ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس بیماری کی ذیلی اقسام کی نشاندہی اس وقت ممکن ہوئی جب دماغ کے مختلف حصوں میں باہمی روابط اور بچپن کے صدمات کا مشاہدہ کیا گیا۔

محققین نے دیکھا کہ وہ افراد جن کے دماغ کے مختلف حصوں کے مابین باہمی روابط کمزور ہوں یا انہیں بچپن میں کوئی صدمہ نہ ملا ہو۔ ان پر ذہنی دباؤ کی روایتی دواؤں کا زیادہ اثر ہوتا ہے جبکہ ایسے افراد جن میں دماغ کی فعالیت زیادہ ہو ان پر ڈپریشن کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں کام نہیں کرتیں۔

ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق جاپانی سائنس دانوں کی اس تحقیق میں 134 افراد سے ان کی سونے کی عادت سمیت زندگی کے حوالے سے تفصیلی معلومات اکھٹی کی گئیں جبکہ ان کے خون اور دماغ کا معائنہ کیا گیا۔

اس تحقیق کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے تقریبا نصف افراد میں ڈپریشن کا انکشاف اس تحقیق کے دوران ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز