آئی ایم ایف وفد کی آمد: پاکستان کو مالی امداد ملنےکا مکان

آئی ایم ایف مشن چیف کی آمد, مالی پیکج ملنے کا امکان

فوٹو: فائل

اسلام آباد: حکومت پاکستان سے مذاکرات کے لیے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں شرکت کرے گا۔

وزیر خزانہ اسد عمر، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور وزارت خزانہ کے سینیئر حکام وفد کو آئی ایم ایف کی جانب سے دیئے گئے ٹارگٹس پر بریفنگ دی جائی گی۔

وزارت خزانہ کے حکام گردشی قرضوں اور سبسڈی میں کمی کے لیے اقدامات پر بھی بریفنگ دیں گے۔

وزارت خزانہ کے آفس میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں پاکستان کو قرض کی واپسی کے لیے اصلاحات کا مکمل پلان دینا ہوگا۔

جائزہ اجلاس کے بعد آئی ایم ایف وفد پاکستان کو 3 سال کے لیے قرض کی منظوری دے گا جس میں پاکستان کو 6 سے 7 ارب ڈالرز ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان نے اکتوبر 2018 میں آئی ایم ایف سے اپنے معاشی بحران کو دور کرنے کے لیے باضابطہ قرضے کی درخواست دائر کی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کو فوری طور پر مالی خسارہ دور کرنے کے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور سعودی عرب نے 3 ارب ڈالرز کی نقد روقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی موجودہ شرح سود 8.5 فیصد کو نا کافی قرار دیتے ہوئے اسے گیارہ فیصد تک لے جانے کی سفارش کی تھی اور دونوں فریقوں کے مابین یہی نقطہ اختلاف کا باعث ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے یہ تجویز درحقیقت افراط زر میں اضافے کے پیش نظررکھی گئی ہے جو روپے کی قدر گرنے اور تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث  ہو گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز