سینیٹ میں فواد چوہدری کی نکتہ چینی، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پولیس افسر ایس پی طاہر داوڑ کا قتل اہم واقعہ اور سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے, واقعہ کی سرکاری سطح پرتصدیق نہیں ہوئی ہے البتہ میڈیا پر تفصیلات ضرور آئی ہیں، کل معاملے پر تفصیلی بیان دوں گا۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الوقت وہی بتارہے ہیں جو وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعہ کا دفتر خارجہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فواد چوہدری نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ اگر ان کے پاس اس واقعہ سے متعلق معلومات ہیں تو وہ متعلقہ حکام کی تحقیقات میں مدد کریں۔

ایس پی طاہر داوڑ کے مبینہ قتل پر وفاقی حکومت کی لاعلمی پر اپوزیشن کی سینیٹرشیری رحمان، سینیٹر راجہ ظفر الحق اور سینیٹر جاوید عباسی نے ایوان بالا (سینیٹ) میں شدید احتجاج کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے ایک موقع پر اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے تو آپ معذرت بھی کرا لیتے ہیں لیکن اپوزیشن کو آپ معذرت کرنے کا بھی نہیں کہتے ہیں۔ اپوزیشن پر ان کی نکتہ چینی سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول بھی بنا، واک آؤٹ کیا گیا اور ناراض سینیٹرز کو منایا بھی گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں بھی پاکپتن میں زمین کی کرپشن کا معاملہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ایوان میں کرپشن کی بات نہ کریں۔

چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پروفاقی وزیرکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری صاحب! آپ ماحول خراب کرنے والی باتیں نہ کریں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس پرسوال کیا کہ جب کرپشن کی بات کرتے ہیں تو ماحول کیوں خراب ہوتا ہے؟ ان کا استفسار تھا کہ جب ہم کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اپوزیشن کیوں شور مچاتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ تمام چیزیں کو دبا دیا جائے۔

ایوان بالا کے اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین سینیٹ نے اس پر وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا مائیک بند کرادیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے خطاب میں سوال کیا کہ بلوچستان کے لیے جو فنڈز مختص کیے گئے وہ کہاں گئے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس ملک کو شریفوں, زرداریز اور اچکزئیز نے لوٹا۔

اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ بلوچستان کے مسائل جوں کے توں کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی اینڈ کمپنی نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا ہے؟ کیا ان لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے؟

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات نے کہا کہ یہ لوگ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے ہیں اور،پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے اپنے بھائی کو گورنر کروایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بلوچستان کا 42 ٹریلین کہاں گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جن کی حکومت تھی وہ جواب دیں۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرنے دعویٰ کیا کہ ہمارے سارے وسائل پر ایک مافیا بیٹھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی زمین کو بھی نہیں بخشا ہے۔

ان کا الزام تھا کہ ان لوگوں نے مزارات سے وابستہ زمینوں کو نہیں چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول یہ ہوچکا ہے کہ کرپشن کی بات نہ کرو۔

اپوزیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ روزآنہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم بھیک مانگ رہے ہیں تو دس سالوں میں جو کچھ کیا گیا ہے اس کے بعد کیا کریں؟

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ یہ لوگ اتنے بلین کھا کر بیٹھے ہیں تو ان کا نام لینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے لیڈر سے متعلق باتیں کرنا چھوڑ دیں تو ایوان ٹھیک چلے گا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ سینیٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دیں کہ اس معاشی دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟

چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر کہا کہ پارلیمنٹری کمیٹی بنانے کے لیے اسپیکر سے بات کروں گا۔

ہم نیوز کے مطابق جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان ایوان میں داخل ہوئے تو فواد چوہدری سے مصافحہ کیا۔

وفاقی وزیر نے اس پر کہا کہ اب تو دوستی ہوگئی ہے لہذا اب ایوان کا ماحول خراب نہ کریں۔

اپوزیشن نے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کے اس بیان پر واک آؤٹ کیا۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان شبلی فراز اور سنیٹر محسن عزیر کو اپوزیشن کو منانے کے لیے بھیجا۔

سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے اس پر کہا کہ پارلیمانی لیڈرز , قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سب بیٹھ کر قوائد و ضوابط بنا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں آپ سے بھی رہنمائی لیں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس پر کہا کہ ایوان چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، آپ اس پر ضرور کمیٹی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب بیٹھ کر قوائد وضوابط طے کر لیں۔

ہم نیوز کے مطابق جب اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان میں وزیر ہی موجود نہیں ہیں۔

سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے اس موقع پر کہا کہ فنانس وزیر تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر وزرا کے پاس ایوان میں جواب دینے کا وقت نہیں ہے  تو وزرا کی لمبی فوج ختم کردیں۔

اس موقع پر کہا گیا کہ وزرا کھانا کھا رہے ہیں تو سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر وزرا قیلولہ فرمارہے ہیں تو پھر پھرجب وہ ایوان میں آئیں گے تو ہم بھی آجائیں گے۔

ہم نیوز کے مطابق اس موقع پر اپوزیشن نے وزرا کی عدم حاضری پر واک آؤٹ کیا۔

’وزرا کی عدم حاضری پر وزیراعظم کو خط بھیجا جائے‘

سینیٹر طلحہ محمود نے اس موقع پر کورم کی بھی نشاندہی کردی۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ وزرا کی عدم حاضری پر وزیراعظم کو خط بھیجا جائے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یہ ہدایت بھی کی کہ کورم پورا نہیں ہے لہذا پانچ منٹ کے لئے گھنٹی بھی بجائی جائے۔

ہم نیوز کے مطابق کورم پورا ہونے پر جب اجلاس شروع ہوا تو قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میرے لیے شرمند گی ہے کہ وزرا ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزرا کو ایوان میں آنا چاہیے۔

ایوان بالا میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میں اپوزیشن کا بھی مشکور ہوں کہ وہ ایوان میں واپس آگئے ہیں۔

طاہر داوڑ کے قتل کا واقعہ نہایت افسوسناک ہے، شیری رحمان

ہم نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کا واقعہ نہایت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تشدد زدہ لاش حوالے کی گئی ہے۔

سابق وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شیری رحمان نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وزیر مملکت (اسٹیٹ منسٹر) کہہ رہے ہیں کہ اس موضوع پر بات ہی نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہر داوڑ کا قتل اہم معاملہ ہے مگر کچھ وزیر لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔

سینیٹر عثمان خان کا کڑنے توجہ دلاؤ نوٹس پرکہا کہ کوئٹہ ائیر پورٹ کی تکمیل دسمبر 2017 ہونی تھی مگر یہ کام اب تک زیر التوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ائیر پورٹ وقت پر مکمل ہوئے مگر کوئٹہ کا ائیرپورٹ جس میں معمولی تبدیلیاں کیں ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ ائیرپورٹ سہولیات سے محروم ہے اور وہاں پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہاں غیر معیاری سامان استعمال کیا جارہا ہے۔

سینیٹر عثمان خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں نیا ائیرپورٹ بننا چاہئے تھا مگر پرانے ائیرپورٹ میں ہی معمولی توسیع کی گئی۔

انہوں نے معلوم کیا کہ بتایا جائے کہ کوئٹہ ایئر پورٹ کب مکمل ہوگا؟ ان کا استفسار تھا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ پر معیاری کام کیوں نہیں ہورہا ہے؟

سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے سوالات تھے کہ کوئٹہ سے گوادر، ژوب اور عرب ممالک کے لئے پروازیں کب شروع ہوں گی؟ اور لورالائی کا ایئرپورٹ کب بنایا جائے گا؟

سینیٹر میر کبیر محمد نے سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے توسیعی منصوبے کا آغاز جنوری 2016میں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر 82 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور صرف 18 فیصد کام باقی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ منصوبے کی تکمیل کے لئے 12 ملین روپے درکار ہیں اورمطلوبہ فنڈز مقرر نہ کئے جانے کے سبب منصوبے پر کام رکا ہوا ہے۔

سینیٹر میر کبیر محمد نے استفسار کیا کہ مطلوبہ فنڈ ز کیوں فراہم نہیں کیے جارہے ہیں؟ اور کب فراہم کیے جائیں گے؟

وفاقی وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوشش ہے کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کا کام جلد مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کا انفرااسٹرکچر مکمل ہوچکا ہے لیکن دیگر کچھ کام باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پشتونخوا میپ جن کے سینیٹر نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا ہے وہ گزشتہ حکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اتحادی تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاخیرپی ایم ایل (ن) کی حکومت میں ہوئی تو پشتونخوا میپ نے اس بارے میں ان سے کیوں نہیں پوچھا؟

وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ 2016 میں کام کا آغازہوا اور دسمبر 2017 کو اس کی تکمیل کی ڈیٹ دی گئی تھی۔ انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ ہماری حکومت نے اکتوبر میں تاخیر کی انکوائری کرائی ہے جس کی تحقیقاتی رپورٹ 16 نومبر کو آئے گی۔

ایوان بالا میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ایئر پورٹ سے سالانہ چار لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں مگرمنصوبہ بنایا گیا ہے کہ اس پر سالانہ 16 لاکھ مسافروں کو سفر کی سالانہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ پشاور اور ژوب سے پروازیں شروع کرنے کا معاملہ زیرغور ہے۔

وفاقی وزیر نجکاری میاں محمد سومرو نےایوان بالا کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں کوئی نجکاری نہیں ہوئی ہے لیکن اب دو پاور پلانٹس کی نجکاری کی جارہی ہے۔

سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیرمملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا کہ ہماری ٹیکس پالیسی میں فائلراورنان فائلر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نان فائلر سے زیادہ ڈیوٹی لینے کامقصد اسے احساس دلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نان فائلر ٹیکس دیں گے توان پر ڈیوٹی کم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں روپے کی قدر میں 13.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جب حکومت سنبھالی تو ڈالر123.6 روپے کا تھا لیکن اب 133 روپے کے مساوی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد روپے کی قدر میں 7.7 فیصد کمی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ہم اسٹیٹ بینک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روپے کی قدر میں کتنی کمی ہوگی، ابھی بتانا نا ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ دیر کے لئے ڈالر کو مصنوعی طور روکا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایوان بالا کو بتایا کہ گزشتہ دس سالوں میں 75.3 بلین ڈالرز کا قرض لیا گیا۔

وفاقی وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ بیرونی قرض پر انحصار کی وجہ برآمدات نہ بڑھانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 24 سے 25 ملین ڈالرز ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اندازے کے مطابق 15 سے 20 ملین ڈالرز کے ترسیلات زر غیرقانونی طریقے سے آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوجائے تو بیرونی قرضوں پر انحصار ختم ہوجائے گا۔

وفاقی وزیرمملکت برائے محصولات حماد اظہر نے ایوان بالا کو بتایا کہ ترقیاتی فنڈز میں خورد برد کو نیب دیکھتا ہے۔

سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عجیب ماحول بن گیا ہے کہ وقفہ سوال کے بعد شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ایوان کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔

سینیٹر چوہدری تنویرنے کہا کہ نان بائی ایسو سی ایشن سراپا اختجاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تندور کے بل میں 15 سے 20 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف راولپنڈی میں آٹھ ہزار تندور ہیں۔

سینیٹر چوہدری تنویر نے زور دے کر کہا کہ حکومت نان بائی ایسوسی ایشن کے مسائل حل کرے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دی کہ اگر پارلیمنٹ کا اجلاس ہو رہا ہو اور یا پارلیمنٹ کے اجلاس کا شیڈول آگیا ہو تو آرڈی ننس کے اجراء سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ یہ رولنگ صدر پاکستان اور وزیر پارلیمانی امور کو بھجوادی جائے۔

سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز