مظفر آباد سول اسپتال کے بچوں کا نیوٹریشن وارڈ حکومتی عدم توجہ کا شکار

مظفرآباد میں موجود شہر کے واحد بڑے سول اسپتال ایمز میں بچوں کا نیوٹریشن وارڈ نو ماہ سے غیر فعال ہے۔

یہ اسپتال 300 بستروں پر مشتمل ہے تاہم وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے نو ماہ قبل افتتاح کے باوجود بچوں کے نیوٹریشن کا وارڈ اب بھی خالی پڑا ہے۔

چلڈرن وارڈ کے انچارج ڈاکٹر متین کا کہنا ہے کہ نوٹریشن وارڈ عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے بنایا گیا ہے مگر اس میں نرسز اور دیگر اسٹاف کی عدم فراہمی کے باعث اس وارڈ کو فعال نہیں کیا جاسکا، یہاں آنے والے بچوں کا علاج جنرل وارڈ میں کیا جارہا ہے۔

وارڈ کے باہر ایک تختی بھی نصب ہے جس پر نو ماہ قبل اس وارڈ کے افتتاح کے حوالے سے تاریخ بھی موجود ہے جس کے بعد اس جانب کسی حکومتی ذمہ دار نے توجہ نہیں دی۔

اسپتال میں موجود مریض بچوں کے والدین نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افتتاحی تختیاں نصب کرنے کے ساتھ اسپتال میں بچوں کے علاج معالجے کے لیے نرسز اور دیگر اسٹاف مہیہ کیا جائے تاکہ عالمی اداروں کے تعاون سے بنے اس وارڈ کو چلایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز