سمندری اور جنگلی حیاتیات خطرے میں

اسلام آباد:جنگلی حیاتیات و نباتات کی ایک عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا کہنا ہے کہ  دنیا بھر میں اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کی آبادی میں 1970 سے 2014 تک 60 فیصد کمی آئی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کارہ ارض کے بدلتے ہوئے ماحول کے باعث تازہ پانی کے جانوروں کی تعداد میں بھی 83 فی صد کی غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے شعبہ جنگلات کے سربراہ کیری سِی زیرِیو کا کہنا ہے کہ انسان کے جدت پسندانہ اقدامات کے باعث کرہ ارض پر جو خوفناک اور بھیانک اثرات مرتب ہورہے ہیں وہ کوئی خیرت انگریز بات نہیں اور اسی وجہ سے دیگر جاندارخامتے کی جانب گامزن ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ

انہوں نے کہا کہ خوراک، توانائی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب  کے درپردہ انسانی سرگرمیاں ہی کارفرما ہیں۔

اس رپورٹ کی مصنف زیریو کا کہنا ہے کہ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ پیرس ماحولیاتی معاہدے کی طرح ہمیں عالمی سطح پر لوگوں اور فطرت کے لیے ایک معاہدے کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ زمین ہمیں خوراک، ایندھن اور توانائی جیسے تمام قیمتی وسائل فراہم کرتی ہے۔ اگر ان وسائل کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو ان کی مالیت 125 کھرب ڈالر سالانہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس سےان قدرتی وسائل کو آنے والی نسلیں بھی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز