طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کو وقت کا زیاں قرار دے دیا

افغان صدر نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کر دیے

فوٹو: فائل

کابل: افغان طالبان نے صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت سے مذاکرات کو وقت کا زیاں قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طالبان کی لڑائی امریکی حکومت سے ہے لہٰذا وہ اسی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’ وائس آف امریکہ‘ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طاقت سے محروم اور غیر ملکیوں کے مسلط کردہ عناصر سے بات کرنا لاحاصل ہے کیوں کہ کمزور فریق فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رکھتا ہے۔

جنیوا میں گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی نے ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے لیے 12 رکنی اعلیٰ سطحی کونسل تشکیل دے رہے ہیں۔

عالمی سیاسی مبصرین 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طالبان ترجمان کے ردعمل کو افغانستان کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ افغان حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے پیشکش کی ہے اور انہوں نے ہمیشہ ہی انکار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے ’وی او اے‘ کے مطابق کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے طریقہ کار وضع کرلیا ہے جس کے تحت نو تشکیل شدہ کمیٹی جنگجوؤں سے مذاکرات کرے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر نے کمیٹی کے قیام کے اعلان بظاہر امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے دباؤ پر کیا تھا جو طالبان کے ساتھ بات چیت میں افغان نمائندوں کی شرکت کے خواہش مند ہیں۔

عالمی خبررساں اداروں و ایجنسیز کے مطابق افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد دو ماہ کے دوران دو مرتبہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغان طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرچکے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے ماہ رواں میں یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ طالبان کے ساتھ اپریل 2019 تک امن معاہدہ طے پاجائے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’پی بی ایس‘ کو گزشتہ روز دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغان مسئلہ کا جلد حل ضروری ہے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغان عوام گزشتہ 40 سال سے جنگ کا سامنا کر رہے ہیں اور اسی لیے ہم اس المیے کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان ایک دوسرے کو قبول کریں اور اتفاقِ رائے سے امن کی راہ کا تعین کریں۔

افغان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے جمعرات کو سماجی رابطے کی وہب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ وہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ امر اللہ صالح کی کابل میں رہائش گاہ پر مدعو تھے کہ وہاں تین مسلح افراد نے حملہ کردیا۔

ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس حملے سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ امراللہ کے محافظوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔

لاس اینجلس، امریکہ  سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے سابق اسٹاف ممبر روڈ نے مارٹن نے کہا ہے کہ افغانستان پہلے برطانوی فوجیوں، اس کے بعد سویت یونین کے فوجیوں اور اب امریکی فوجیوں کا قبرستان بن گیا ہے۔

ایران کے نشریاتی ادارے ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکہ کے سیاسی تجزیہ کار روڈ نے مارٹن کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ افغانستان کو کئی دہائیوں سے سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ دو صدیوں میں برطانیہ اور سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی مگر ناکام رہے اور امریکا نے ان دونوں ممالک کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔

طالبان نے گزشتہ سال خبردار کیا تھا کہ وہ افغانستان کو امریکی  قبرستان میں بدل دیں گے۔

ایران کے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روڈ نے مارٹن کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لوگ جانتے ہیں کہ امریکا نے طالبان کو تخلیق کیا جیسا کہ اس نے داعش کو پیدا کیا۔

افغانستان کے متعلق جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کو افغانستان میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں عندیہ دیا تھا کہ وہ  افغانستان میں مزید فوجی بھیجیں گے۔

روڈنے مارٹن نے کہا کہ ’افغانستان کے لوگ جانتے ہیں کہ امریکا نے طالبان کو تخلیق کیا جیسا انہوں نے داعش کا پیدا کیا‘۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی افغانستان میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہیں۔

عالمی خبررساں ایجنسیوں اور اداروں کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دو ہزار 414 امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوچکی ہے جب کہ اتحادی فوجیوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد تین 555 سے تجاوز کرچکی ہے۔

2018 میں جنوری سے ستمبر کے درمیان افغانستان میں آٹھ ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز