بدعنوانی سے پاک پاکستان ہمارا ایمان ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد : نیب ہیڈ کوارٹر میں  اجلاس  کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا بدعنوانی سے پاک پاکستان ہمارا ایمان ہے، بدعنوانی کے خلاف عوام میں شعور بیدارکر کے احتساب کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی پالیسی کامیاب رہی  ہے جو مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے  نیب کی عوامی  آگاہی مہم ، بدعنوانی کے خاتمے اور پالیسی پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے  اجلاس نیب ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا۔

جلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے دیگر طبقات کو مہم میں شامل کیا ہے تاکہ بدعنوانی کے خلاف عوام اور بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کو آگاہی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے وصول ہونے والے مثبت ردعمل کے مطابق بدعنوانی سے پاک پاکستان ہمارا ایمان کے حوالے سے شروع کی گئی مہم انتہائی کامیابی سے جاری ہے اور اس کی کامیابی میں نیب کے میڈیا ونگ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔نیب میڈیا ونگ کی کاوشوں سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ملک بھر میں مہم کامیابی سے جاری ہے جس کو معاشرے کے تمام طبقات نے سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے موثر آگاہی اور بدعنوانی سے بچا و  کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں تاکہ عوام کو بدعنوانی کے برے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ نیب کی اولین ترجیح ہے کہ تمام تر ممکنہ اقدامات کو بروئے کار لا کر پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کے خلاف جاری موثر حکمت عملی احتساب سب کے لئے  جاری ہےاور آج نیب  ملک کا ایک معتبر اور قابل فخر ادارہ بن چکا ہے۔ پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اور سروے بھی نیب کی کارکردگی کے معترف ہیں۔

نیب نے بدعنوانی کے خلاف نہ صرف اپنے دروازے عام شہریوں کے لئے کھولے ہیں بلکہ ان سے شکایات وصول کرنے کی شرح میں اضافہ کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں،   جس کی وجہ نیب کو 44 ہزار 315 شکایات موصول ہوئی ہیں جن کا سکروٹنی کمیٹی میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔جس کے بعد 1713 شکایات کی تصدیق کے بعد ان پر تحقیقات کی گئیں اور 877 انکوائریوں جبکہ 227 انویسٹی گیشنز کی جا رہی ہیں۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہااحتساب سب کے لئے کی پالیسی کے تحت نیب نے نہ صرف ایک سال کے دوران 503 ملزمان کو گرفتار کیا ہے بلکہ بدعنوان عناصر سے 2580 ملین روپے کی رقم وصول بھی کی ہے جو کامیابی کا ایک بڑا ریکارڈ ہے۔نیب کی جانب سے ریکور کئی گئی رقوم سینکڑوں متاثرین کو واپس کی گئی ہیں جن میں کچھ حکومت کے محکمے بھی شامل ہیں۔

نیب نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے مختلف اجلاسوں میں کئی اہم فیصلے کئے ہیں اور نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کی مختلف احتساب عدالتوں میں کرپشن کے 440 ریفرنسز بھی فائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے بلاتفریق اقدامات سے آج بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے۔   نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر بھرپور یقین رکھتاہے۔ نیب کا کسی بھی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ادارے کے اہلکار و آفیسرز کی پہلی ترجیح صرف اور صرف ریاست پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ ساتھ گیلپ اور گیلانی کی جانب سے پیش کی گئی سروے رپورٹس کے مطابق ملک کے 59 افراد نے نیب کی کارکردگی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس سے نیب کی کارکردگی کی عکاسی ہوتی ہے

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز