تحریک انصاف میں میری فعالیت کا تاثر غلط ہے، جہانگیر ترین

عمران خان کی ٹیم کمزور نہیں بلکہ نئی ہے، جہانگیر خان ترین

December 6, 2018

  • ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ہم سب ذمہ دار ہیں، جہانگیر ترین

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کمزور نہیں بلکہ نئی ہے۔ تمام وزرا بہترین کارکردگی دکھانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام ‘ندیم ملک لائیو’ میں میزبان ندیم ملک کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ عمران خان جو ٹاسک دیتے ہیں وہ سرانجام دیتا ہوں۔ ہمیشہ اپنی ایمندارانہ رائے عمران خان کو دیتا ہوں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ جو مجھ سے پوچھتے ہیں میں انکو یہی کہتا ہوں کہ میں کوئی حکومتی عہدہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن پاکستان کی خدمت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

رہنا پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ عمران خان اب بھی مجھ پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے۔

جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ہماری کوششش ہے کہ دیہی کونسل تک اختیارات دے دیں جیسا ہم نے خیبرپختونخوا میں کیا تھا ویسا ہی پنجاب میں کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل دینے کا عزم  لے کر آئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ڈس فنکشنل نہیں ہیں، وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

جہانگیر ترین نے واضح کیا کہ حکومتی فیصلوں میں میری کوئی کارکردگی نہیں ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن سو سے زیادہ دن لگیں گے۔ ہم نے خود احتسابی کے لیے سو روزہ ایجنڈے کے طور پر اپنے ہدف قائم کیے تھے اور آئندہ چھ ماہ کے لیے بھی ایک ایجنڈے کے تحت ہی کام کر رہے ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی نے لیگی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت سنبھالنے سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ معاشی حالات اتنے خراب ہیں۔ ہر ادارے میں کرپشن اس حد تک بڑھ چکی ہے۔

 

جہانگیر ترین نے گفتگو کے دوران کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ہم سب ذمہ دار ہیں صرف وزیرخزانہ اسد عمر کو اس کا قصوروار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ پی ٹی آئی قیادت ٹیم ورک پر یقین رکھتی ہے۔ ہمیں وراثت میں خراب معیشت اور خالی خزانہ ملا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے تھا کہ حکومت میں آنے کے دو ہفتے کے بعد ہی عوام کو ملکی معیشت کی خراب حالت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہوتا۔

جہانگیر ترین نے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ اسد عمر کے ساتھ میری تلخ کلامی کی خبریں غلط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن نے ہمارے ملک کو کھوکھلا کر دیا۔ عمران خان نے بائیس سال کرپشن کے خلاف مہم جاری رکھی۔ احتساب کرنے کا وعدہ ان کا قوم سے ایک بہت بڑا وعدہ تھا۔ اگر وہ چوروں کو پکڑنے کی بات کرتے ہیں تو بالکل صحیح کرتے ہیں۔

جہانگیر ترین کا موقف تھا کہ ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت ضرور مدت پوری کرے گی۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ نیب ایک اچھا ادارہ ہے جس نے ماضی میں بہت سے لوگوں کے خلاف بہترین فیصلے کیے ہیں مگر نیب کو ابھی سے زیادہ بااثر ہونے کی ضرورت ہے۔

آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل ہونے کے بعد کوئی سیاسی عہدہ نہ ملنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا کام تھا عمران خان کو وزیراعظم بنانا اور خواہش تھی کہ پی ٹی آئی کو عوام کی بہترین نمائندہ جماعت کے طور پر دیکھوں۔ عوام کی خدمت ہمیشہ میری سب سے اولین ترجیح رہی ہے اور وہ میں اب بھی کوئی سیاسی عہدہ نہ رکھتے ہوئے بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔

اپنے اکلوتے بیٹے علی خان ترین کے سیاسی سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مستقبل میں شاید وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ہی نمائندگی کریں مگر فی الوقت وہ سیاست سے بالکل دور رہ کر اپنی پڑھائی اور ذاتی کاروبار میں مصروف ہیں۔

پروگرام کے حتمی حصے میں، عمران خان کی حکومت اچھی چلے گی یا نہیں اس کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نیک ارادے لیے ہوئے آئی ہے عوام ہم پر اعتماد کریں امید ہے سب اچھا ہو گا۔ معاشی خسارے پر قابو پاتے ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا۔ پچاس لاکھ ہاؤسنگ منصوبہ ایک اچھا منصوبہ ہے۔ انشااللہ عوام کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز