کراچی دھماکہ، حکومتی و سیاسی شخصیات کا ردعمل

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گلستان جوہر میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے واقع کی فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ گورنر سندھ نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد پہنچانے کی بھی  ہدایات جاری کی ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق پرفیوم چوک پر منعقدہ محفل میلاد میں اس وقت دھماکہ ہوا جب نعت خواں بارگاہ رسالتﷺ میں ہدیہ نعت پیش کررہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکہ کے فوری بعد چھ زخمیوں کو قریب ہی واقع دارالصحت اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں میں وفاقی وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے کو آرڈینیٹر بلال بھی شامل ہیں۔

جناح اسپتال سے ہم نیوز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے ایک زخمی فیضان کو اسپتال لایا گیا ہے۔

دارالصحت اسپتال کے ایگزیکٹیو آفیسر کے مطابق لائے گئے زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دو زخمیوں کو چھرے لگنے سے زخم آئے ہیں اور ان کا جسم کا تقریباً نصف حصہ جھلسا ہوا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی دھماکے کا فوری نوٹس لیا اور کمشنر کراچی و ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فون کرکے صورتحال کی بابت معلومات حاصل کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی امداد فراہم کی جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کی جائے گی۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ شکست خورد ذہن ہیں جو معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے بھی آئی جی سندھ اور کمشنر کراچی سے دھماکے کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ہم نیوز کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایات دی ہیں کہ زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

ہم نیوز کے مطابق آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے پرفیوم چوک گلستان جوہر میں ہونے والے دھماکے پر ڈی آئی جی اور ایس ایس پی ایسٹ سے واقع کی رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ ہر قیمت پر عوام الناس کی جان و مال کے تحفظ کو یقیقنی بنایا جائے۔

جائے وقوع پر موجود ہم نیوزکے نمائندے کے مطابق حادثہ کی جگہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا ہے جب کہ سیکیورٹی کے اداروں نے کرائم سین کو محفوظ بنانے کے لیے ایک طرف کی سڑک ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے مکمل طورپر بند کردی ہے۔

پرفیوم چوک دھماکے کے بعد ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے محفل میلادﷺ کو سیکیورٹی دی گئی تھی۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ڈی آئی جی ایسٹ کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ محفل میلاد مصطفیٰﷺ بنا اجازت منعقد کی گئی تھی۔

جائے وقوع کا دورہ کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ اس بحث میں ہی نہیں پڑنا چاہیے کہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں؟ سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طورپر پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل پولیس غیر سیاسی ہوگئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر محسوس ہورہا ہے کہ وہ ’سیاسی ‘ ہوگئی ہے۔

ایم کیوایم پاکستان کے کنوینرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کارکنان سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ نیوز کے شہریار اس وقت آئی سی یو میں زیرعلاج ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان کے سینٸر ڈپٹی کنوینرعامر خان اوردیگر اراکین رابطہ کمیٹی بھی زخمیوں کی عیادت کے لیے مقامی اسپتال پہنچ گئے۔

عامر خان نے اس موقع پر کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں کارکنان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنان ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمی کارکنان کے علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

کراچی کے کم عمر ترین میئر کا اعزازرکھنے والے ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے منعقدہ محفل میلاد مصطفیٰﷺ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گلستان جوہر دھماکے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔

انہوں نے زخمیوں کی دارالصحت اسپتال پہنچ کر عیادت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیرزمان نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شہرکا امن تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

خرم شیرزمان نے زور دیا کہ حکومت سندھ جلد از جلد زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائے. حکام بالا کی توجہ مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کی سیکیورٹی کی صورتحال پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے.

پی ٹی آئی کراچی کے صدر نے کہا کہ ملک دشمن عناصر اپنے مضموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے.

ایم کیوایم پاکستان کے ترجمان نے محفل میلاد میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٸی کارکنان شدید زخمی ہوگٸے ہیں۔

ترجمان نے مطالبہ کیا کہ دھماکہ میں ملوث دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور ملوث عناصر سمیت ان کے عزائم قوم کے سامنے لائے جائیں۔

ترجمان ایم کیوایم پاکستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایم کیوایم کےکارکنان کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

حکومت سندھ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دہشت گرد کراچی کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں مگر سندھ حکومت ایسا ہونے نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت میں رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اسپتال انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ انہوں نے یققین دہانی کرائی کہ زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلی سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی اور راشد ربانی کی جانب سے کراچی میں ہونے والی میلاد کی محفل میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت زخمی ہونے والے تمام افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کراچی کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں مگر سندھ حکومت عوام کے تعاون سے ایسی سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

مئیر کراچی وسیم اخترنے  گلستان جوہر میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرپسند عناصر شہر کے امن کو خراب کرنا چاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عید میلادالنبیﷺ کی محفل کے قریب دھماکہ بڑی سازش ہے لیکن کراچی کے شہری کسی بھی سازش کو ناکام بنادیں گے۔

ہم نیوز کے مطابق حادثے کی جگہ پرانچارج سی ٹی ڈی مظہر مشوانی کی سربراہی میں ٹیم موجود ہے جو تمام ثبوت و شواہد اکھٹا کررہی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں بی ڈی ایس کا یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دھماکہ دیسی ساخت بم سے کیا گیا ہے۔ جس میں بارودی مواد اور بال بیرنگ استعمال کیے گئے تھے۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز