میڈیا کمیشن کی رپورٹ پر پانچ سال سے عمل نہیں ہوا ، جاوید جبار

اسلام آباد: سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار نے کہا ہے کہ صحافت میں اصلاحات کی ضرورت ہے، ریاست اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ایسا ادارہ تشکیل دے جو آزادی اظہار رائے پر پابندی نہ لگائے لیکن میڈیا کا احتساب کرے اور اس کا آغاز میڈیا مالکان سے ہو۔

ہم نیوز کے پروگرام ’ایجنڈا پاکستان‘ کے میزبان عامر ضیاء سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود احتسابی بہت مشکل عمل ہے، ایک عام آدمی بھی اپنے بارے میں درست تعین نہیں کر سکتا، جہاں اشتہارات اور مقبولیت کا مفاد آ جائے وہاں یہ کام اور بھی مشکل ہے، اس لیے ایسا ادارہ ہونا چاہیئے جس میں صحافیوں کی شرکت ضرور ہو لیکن اس میں عوام کی شمولیت بھی ہو۔

سابق وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ خبر پیش کرنے والے جس طرح چیخ چلا رہے ہوتے ہیں یہ بھارتی میڈیا کی نقالی ہے، اس سے ناظرین کو بھی اکتاہٹ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا کوئی نعم البدل نہیں کیونکہ ضابطہ اخلاق پر کوئی عمل نہیں کرتا، سپریم کورٹ کے بنائے ہوئے میڈیا کمیشن میں ہم نے 80 قوانین میں ترامیم تجویز کی تھیں لیکن پانچ سال سے اس بارے میں کوئی کام نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار کسی اخبار یا چینل کو ڈیکلریشین یا لائسنس مل جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ اسے عمر بھر کے لیے اجازت مل گئی ہے، پانچ سات برس بعد لائسنس کی تجدید کرنی چاہیے جس میں ایک خودمختار ادارہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لے۔

سوشل میڈیا کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا مظہر ہے جس کے بارے میں دو ماڈل سامنے آئے ہیں، ایک طرف چین کا ماڈل ہے جس میں اس پر پابندیاں عائد ہیں جبکہ دوسری طرف مغربی ماڈل ہے جس میں اسے کھلی آزادی ہے۔ ہمیں سماجی میڈیا کے بنیادی اداروں سے بات کر کے کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

پروگرام میں شریک تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا تھا کہ میڈیا کا ریٹنگ کا نظام بہت ناقص ہے، جن میٹرز کے ذریعے اس کا تعین کیا جاتا ہے ان کی تعداد بہت کم ہے، اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ عوام سنسنی خیزی کو پسند کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر عمل درآمد کا مسئلہ ہے، بہت سے چینلز پر پیمرا نے جرمانے عائد کیے ہیں لیکن ایک روپے کا جرمانہ بھی وصول نہیں کر پایا۔

امتیاز گل نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کے نعرے پر اب سوال اٹھ رہے ہیں یہاں صحافت کی آڑ میں سیاسی ایجنڈہ پورا کیا جا رہا ہے یا اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوانین کے ذریعے سماجی میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، اس کے لیے عوام کی تربیت ضروری ہے، امریکی اور یورپی ممالک القاعدہ جیسی تنظیموں کو بھی سماجی میڈیا سے ختم نہیں کر سکے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز