قومی اسمبلی اجلاس، سعد رفیق کے معاملے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

فوٹو: فائل

اسلام آباد: مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر آج بھی مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ سردار اختر مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی سربراہی پر معاملات طے پانا خوش آئند ہے لیکن ارکان پارلیمنٹ کا حق ہے کہ ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔

انہوں ںے کہا کہ ہم تو مسنگ پرسنز ہیں ہمارے پروڈکشن آرڈر کوئی جاری نہیں کرتا لیکن خواجہ سعد رفیق کے تو جاری کیے جائیں اور اس ایوان کو مغل دربار نہ بنایا جائے۔

اختر مینگل اپنے اظہار خیال کے بعد خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اختر مینگل نے بڑے اچھے طریقے سے مشاہدہ پیش کیا ہے جوہم تین دن سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ براہ کرم خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے بھی ایوان سے واک آؤٹ کر دیا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا۔

ایوی ایشن ڈویژن اور ریلوے خسارہ کے اعداد و شمار ایوان میں پیش

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ایوی ایشن ڈویژن اور پاکستان ریلویز کی جانب سے خسارے کے اعداد وشمار ایوان میں پیش کیے گئے۔

ہم نیوز کے مطابق ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ قومی ائیر لائن کے قرضے 247 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، پی آئی اے پر اسوقت 247 ارب 37 کروڑ روپے کے قرضوں کا بوجھ ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن نے اپنے جواب میں بتایا کہ پی آئی اے کے اثاثوں پر 41 ارب روپے کے قرضے لئے گئے، پی آئی اے کے ذمہ حکومت پاکستان کے 8 ارب روپے کے قرضے ہیں۔

جواب میں بتایا گیا کہ حکومتی گارنٹیز پر پی آئی اے نے 198 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے گئے۔

وزیرہوابازی کی جانب سے بتایا گیا کہ پی آئی اے کی گوادر کراچی پرواز بحال کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کم مسافروں کے باعث گوادر سے کراچی چلنے والی دو پروازیں بند کی گئیں۔

ریلوے خسارہ شیخ رشید کے دور میں بھی کم نہیں ہوا، تحریری جواب

قومی اسمبلی میں پاکستان ریلوے کے خسارے کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے جس کے مطابق جولائی سے اکتوبر تک ریلوے کو 9 ارب 81 کروڑ روپے خسارےکا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان ریلویز کی جانب سے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیخ رشید کے دور میں بھی ریلوے کا خسارہ کم نہیں ہوا۔

جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال ریلوے کا خسارہ 36 ارب 62 کروڑ روپے تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران صوبہ سندھ میں ریلوے کی اراضی پر قبضہ کے اعداد و شماربھی پیش کیے گئے جن کے مطابق سندھ میں ریلوے کی 1 ہزار 151 ایکڑ اراضی پر قبضہ ہے۔ حیدرآباد میں 53 ایکڑ، میرپور خاص میں 5.8 ایکڑ اراضی پر قبضہ ہے۔

تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد اور میرپور خاص میں پانچ سال کے دوران 39 ایکڑ سے زائد اراضی واگزار کرائی گئی.

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا تنویر نے وقفہ سوالات کے دوران حکومت کی جانب سے غیرتسلی بخش جواب دینے پر اعتراض کیا اور کہا کہ صوبوں میں کچھ ادارے ایسے ہیں جو وفاق کے زیر انتظام ہیں۔

رانا تنویر کا کہنا تھا کہ چار مہینے ہو گئے ہیں اس حکومت کو ابھی تک زمہ داری کا احساس نہیں، ایک گھنٹہ پہلے اجلاس شروع ہونا تھا اور ابھی تک کوئی وزیر ایوان میں نہیں آیا۔

انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وزرا کو لکھیں کہ ذمہ داری کا احساس کریں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز