مشرفی کا سیاست میں قدم، ’ عمران خان کے مقام تک پہنچنا ناممکن‘


بنگلادیش کرکٹ کے کامیاب ترین کپتان اور آل راؤنڈر مشرفی مرتضٰی نے کہا ہے کہ ایمانداری سے بات کی جائے تو عمران خان جس مقام پر پہنچ چکے ہیں وہاں تک کسی بھی دوسرے کھلاڑی کا پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔

مشرفی مرتضیٰ 30 دسمبر کو حکمران جماعت عوامی مسلم لیگ کی جانب سے الیکشن لڑنے جارہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کھیلوں اور چیریٹیز کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو جس مقام پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پہنچے ہیں، لوگ چاہیں بھی تو وہاں نہیں پہنچ سکتے، میں کھیلوں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں خود اس پیشے سے وابستہ ہوں اس لئے میری خواہشات بھی کھیلوں تک محدود ہیں، میں اپنے علاقے اور لوگوں کے اچھا کرنا چاہتا ہوں۔

مشرفی مرتضیٰ نارائل کی جنوب مغربی ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ان کی چیریٹی آرگناگزیشن نارائل ایکسپریس نے اسپتالوں کو ایمبولینسز فراہم کرنے کے ساتھ کاشت کاروں میں چاول کے بیچ بھی بانٹے ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں کھلاڑیوں کا سیاست میں قدم رکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم مشرفی مرتضیٰ اب بھی کرکٹ کھیل رہے ہیں اور بنگلہ دیشی ون ڈے ٹیم کے کپتانی کررہے ہیں جبکہ انہوں نے اگلے سال ورلڈ کپ کھیلنے کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔

انہوں نے 2009ء سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ سے بھی ریٹائر ہوچکے ہیں، مشرفی مرتضی گھٹنے کے سات آپریشنز کروا چکے ہیں جب کہ ان کی قیادت میں بنگلہ دیش نے ورلڈ کپ 2015 کے کوارٹر فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کیا تھا ۔

مشرفی مرتضیٰ نے جب سیاست میں داخل ہونے کا اعلان کیا تو انہیں سوشل میڈیا اور عام عوام میں بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں کا کہنا تھا کہ سیاست جیسے گندے کھیل میں شامل ہونا مشرفی کے بس کی بات نہیں۔

کچھ ناقدین نے انہیں حکمران جماعت شیخ حسینہ کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر تنقید کانشانہ بنایا، واضح رہے کہ حکمران جماعت کی یہ پارٹی اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں جیل بھجوانے کے الزام میں بدنام ہے۔

تاہم انہوں نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں کسی بھی اپوزیشن جماعت اور مخالف نظریہ رکھنے والوں کی اسی طرح عزت کرتا ہوں جیسے اپنی پارٹی میں موجود لوگوں کی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو عام لوگوں کے لئے ایک مثبت مثال ہونا چاہیے۔


متعلقہ خبریں