بلوچستان: غذائی قلت، متاثرہ بچوں کی تعداد 60 فیصد تک جاپہنچی

فائل فوٹو


کوئٹہ : بلوچستان میں غذائی قلت نے تشویش ناک صورتحال اختیار کرلی اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی کئی تحصیلوں میں متاثرہ بچوں کی تعداد 40 سے 60 فیصد تک پہنچ گئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق غذائی قلت کے پندرہ فیصد تک بڑھ جانے پر ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے جبکہ  کوئٹہ میں یہ شرح 40 فیصد سے ہو چکی ہے۔ اس معاملے میں یونیسف کے تعاون سے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کیے جارہےہیں۔

ادارے کے مطابق اس سلسلے میں پشین، قلعہ عبداللہ اورکوئٹہ میں ڈھائی ہزار کے قریب ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ مہم کی ابتدا میں چھ ماہ سے پانچ سال کے بچوں کی اسکریننگ بھی کی جائے گی۔

واضح رہے پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے گزشتہ دنوں ضلع تھرپارکر میں غذا کی کمی اور وبائی امراض کے باعث صرف 36گھنٹوں میں  سات نومولود دم توڑ گئے تھے۔

مٹھی کے سول اسپتال میں ان بچوں کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا جہاں دوران علاج چھ بچوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں جبکہ ایک بچہ لوکہی میں دم توڑ گیا۔ تھرپارکر میں مزید چھ بچوں کی ہلاکت کے بعد رواں سال غذائی قلت اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں سے نومولود بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد چھ سو 35 ہوچکی ہے۔


متعلقہ خبریں