ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ

مختلف وجوہات کی بنا پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا، ڈریپ

January 11, 2019

فوٹو: فائل

اسلام آباد:  ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات سمیت تمام دواؤں کی قیمتوں میں نو سے پندرہ فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق قیمتوں میں اضافے  کے بعد 313 روپے قیمت والی ادویات کی نئی قیمت 369 مقرر کر دی گئی ہے۔

ڈریپ نے ہدایت کی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ دوا کی پیکنگ پر تحریرکرنا ضروری ہے۔

مختلف وجوہات کی بنا پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا، ڈریپ

ترجمان ڈریپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ادویات میں اضافہ مختلف وجوہات کی بناء پر نا گزیر تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا، ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

ترجمان کے مطابق گیس، بجلی اور دیگر یوٹیلیٹیز کی بڑھتی قیمتیں فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر اثر انداز ہوئیں، ایڈیشنل ڈیوٹی میں بھی اضافہ بھی دواؤں میں اضافے کی وجہ بنا۔

ڈریپ کے مطابق پاکستان کی زیادہ فارماسیوٹیکل چین سے درآمد ہوتی ہیں، چین میں ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر آدھی سے زیادہ انڈسٹری کی بندش ہے۔

دوسری جانب خام مال کی قیمتوں میں دو گنااضافہ بھی پاکستان کی فارما صنعت پر اثر انداز ہوا، ملک میں آئے دن کچھ ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

ترجمان ڈریپ کے مطابق بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے تیار کرنا کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہا، ڈریپ کے لیے جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چند ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں آپریشنز بند کر کے واپس جا چکی ہیں، کمپنیاں مزید انوسٹمنٹ کے بجائے کاروبار سمیٹنے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ساری صورت حال ملکی مفاد کی منافی ہے، فارماسیوٹیکل انڈسٹری قیمتوں میں ڈالر کی قدر کے لحاظ سے اضافے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ادویات کی قیمتوں کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا لیکن مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی بڑھنے لگی تھی۔

ترجمان ڈریپ کا کہنا تھا کہ مریضوں اور ملک کے مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا، ادویات کی 90 فیصد ضروریات ملکی صنعت پوری کرتی ہے، جس کی بقاء کے لیے ادویات کی قیموں میں جائز اضافہ ضروری تھا۔

ڈریپ کے مطابق وزارت صحت کی ضروری کارروائی کے بعد وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے گی۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ادویات ک قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

اس سے قبل پنجاب اور سندھ بھر میں سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پرجان بچانے والی دوائیں غائب ہو گئی تھیں جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تاثر دیا جا رہا تھا کہ دواؤں کی قیمتیں بڑھانے کے لیے یہ کھیل رچایا جا رہا ہے۔

نایاب ہونے والی دواؤں میں دل کے امراض، ہیپا ٹائٹس اے، مرگی کی ادویات شامل تھیں جب کہ  مرگی، بچوں کے کھانسی کے سیرپ، حفاظتی ویکسین اور ہیپاٹائیٹس اے، اینٹی رے بیز اور سانپ کے کاٹنے کی صورت میں لگائی جانے والی ویکسین بھی دستیاب نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز