معاشی پالیسیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دی گئیں

اسلام آباد: ملک کی سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے منی بجٹ پیش کرنے کے اقدام کو مسترد کردیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ پانچ ماہ میں پیش کئے جانے والے تیسرے بجٹ کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

یہ بات قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن کے منعقدہ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی دعوت پر ان کے چیمبرمیں منعقدہ اجلاس میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر، شیری رحمن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناءاللہ، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی اور مریم اورنگزیب نے شرکت کی۔

اپوزیشن جماعتوں کے منعقدہ اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کی نمائندگی مولانا اسد محمود اور مولانا عبدالواسع نے کی جب کہ اے این پی کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی  شریک ہوئے۔

ہم نیوز کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ اور حاجی ہاشم پوتزئی نے بھی خصوصی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمر میں منعقدہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں ملک کی مجموعی داخلی، سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔

ہم نیوز کے مطابق شرکائے اجلاس کا اس امر پر اتفاق تھا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت کی نااہلی، ناکامی، ناتجربہ کاری اور بے حسی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ شرکا متفق تھے کہ افراط زرمیں ہونے والے اضافے اور بے قابو قرض کے سبب عام آدمی مہنگائی کی بدترین چکی میں پس رہا ہے۔

شرکا نے کہا کہ روزمرہ استعمال کی اشیا سمیت ادویات جس قدر مہنگی ہوئی ہیں اس نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ ایک جانب گیس و بجلی کا بحران ظلم ڈھارہا ہے تو دوسری جانب ان کی قیمتوں میں کیا جانے والا اضافہ مزید ظلم کے مترادف ہے۔

ہم نیوز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے قرار دیا کہ بجلی و گیس کا بحران دراصل حکومتی بدانتظامی اور نالائقی کا نتیجہ ہے۔

اجلاس میں شریک پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی، مذہبی و قوم پرست جماعتوں نے یہ کہہ کر عوام پر ایک اور بجلی گرادی کہ معیشت کی شرح نمو میں ہونے والی واضح کمی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں مگر اب مزید ہونے جارہے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ روپے کی قدر میں 35 فیصد کمی سے ملکی و بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے، عوام و مختلف شعبہ جات کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے اور حکومتی عاقبت نااندیشی سے سرمایہ کاری کی فضا بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹاک ایکسچینج میں اب تک 40 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے اور کاروباری و معاشی سرگرمیاں منجمد ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک اور ممکنہ بجٹ کی بھرپورمخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  تیسرے بجٹ سے پہلے ہی مشکلات کا شکارعوام پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں منعقدہ اجلاس میں شرکا نے آزادی اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی قدغنوں اور ٹی وی چینلوں و میڈیا اداروں کی بندش پرسخت تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ میڈیا صنعت کو درپیش شدید بحران سے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرزاورصحافی بے روزگار ہورہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت کی صوبائی خودمختاری اوروفاقی اکائیوں کے آئینی، جمہوری و داخلی امور میں مداخلت اور منتخب حکومتیں گرانے کے رویے قابل مذمت ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے آئینی، جمہوری، معاشی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے عوامی حقوق کے دفاع کے لئے متفق و متحد ہو کر پوری قوت سے مزاحمت کرنے کا بھی اعلان کیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں طے کیا گیا کہ مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔ مشترکہ کمیٹی متحدہ اپوزیشن کے پارلیمان کے اندر اور باہرکے مستقبل کے لائحہ عمل، اشتراک عمل سے آگے بڑھنے اورآئندہ ایجنڈے کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز