میرے ہاتھ میں ہو تو 500 افراد جیل میں ہوں،علی محمد خان

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ میرے ہاتھ میں ہو تو 500 افراد جیل میں ہوں۔

پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا ادارہ  آزاد ہے۔ جو کرپٹ ہو اسے پکڑ میں آنا چاہیے۔ کرپشن ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

نئے پاکستان میں کسی کو این آر او نہیں ملے گا،علی محمد خان

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ رہنما پی ٹی آئی نے مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کیا کیا؟ اتنے عرصے سے سندھ میں ان کی حکومت ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جب عمران خان کرپٹ لوگوں کو اندر کرنے کی بات کرتے ہیں تو اپوزیشن کیوں چلا اٹھتی ہے۔ انہوں نے روحیل اصغر کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا کہ آیئے مل کر کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہیں

حکومت کیسے این آر او دے سکتی ہے،شیخ روحیل اصغر 

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی کی حکومت عدالت ہے یا نیب ہے، وہ کیسے این آر او دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو مشکوک بیانات سے بنایا جاتا ہے۔

شیخ روحیل نے مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بالکل غصے میں نہیں آنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دشمن خود ہیں اسی لیے ہمیں بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

رہنام مسلم لیگ ن نے مل کر کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے کی پیشکش کے جواب میں علی محمد خان کو جواب دیا کہ کارروائی ہمیشہ اپنے گھر سے شروع کرنی چاہیے۔ آپ کریں کرپشن کے خلاف کام ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر بھی نظر ڈالے اور دیکیھیں ے کہاں مسائل کا سامان ہے۔ اس وقت کون سا ادارہ اچھا کام کررہا ہے۔

مشرف اس وقت باہر گئے تھے جب عدالت نے اجازت دی،مرتضیٰ وہاب

پروگرام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نواز شریف کا این آر او اس وقت ہوا تھا جب آئین نہیں تھا لیکن آج اس ملک میں آئین موجود ہے۔

مشرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرف اس وقت باہر گئے تھے جب عدالت نے انہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسسز کا سامنا کرنے کے لیے کل بھی تیار تھے آج بھی تیار ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے علی محمد خان کو مخاطلب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں منفی رجحان ہے ہی یہ کہ ایک ادارے کو سنوارنے کے بجائے ہم دوسرا ادارہ قائم کردیتے ہیں اور یہی کچھ کے پی میں ہوتا رہا۔ جس کی سب سے بڑی مثال احتساب کمیشن کا بند ہونا ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم کبھی بھی سرجوڑ کر اداروں میں بہتری لانے کی بات نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں مضبوط کرنے کو کوشش کرتے ہیں۔ حکومت وقت کا کام پالیسی بنانا اور اس پر عمل درآمد کرانا ہوتا ہے۔

انہوں نے علی محمد خان سے سوال کیا کہ اب تک پی ٹی آئی نے ایسی کونسی سے پالیسی بنائی جس سے ملک کو فائدہ ہوا ہو؟ جس کے جواب میں رہنما پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جب تک اس سے نجات نہیں ملے گی ملک میں ادارے مضبوط نہیں ہوں گے۔

وفاقی حکومت کراچی میں کام کرنے کی خواہاں ہے، آفتاب صدیقی

پروگرام کے آغاز میں رہنما پاکستان تحریک انصاف آفتاب صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی کے لیے کافی پیکجز آئیں گے کیونکہ وفاقی حکومت کراچی میں کام کرنے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی اور ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کریں گے۔ ندیم آفتاب نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اس وقت ملک میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ارکان نے فنڈرز کی بھی بات کی اور موجودہ حالات پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز