سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں توسیع

فوٹو: فائل

کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی منی لانڈرنگ کیس میں 14 فروری تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

کراچی بینکنگ کورٹ میں آج میگا منی لانڈرنگ اسکینڈل کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان بھی بینکنک کورٹ پہنچے۔

آصف علی زرداری، فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کا آج آخری روز تھا تاہم عدالت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کرتے ہوئے درخواست ضمانت کی سماعت چھ فروری تک ملتوی کر دی۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عبدالغنی مجید کی سرجری سے متعلق رپورٹ دی گئی تھی اُنہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر موجود ہے نہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا ریکارڈ، تو کیس کو کیسے چلائیں۔ عدالت کیس سننے کو تیار ہے لیکن فائل ہی موجود نہیں ہے۔ پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ، ریکارڈ اور تفتیشی افسر کو آنے دیں۔ اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عبوری چالان موجود ہے اور عدالت اسی کی بنیاد پر ضمانت سن سکتی ہے۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک دفعہ دیکھ لے پھر کارروائی آگے بڑھائے۔

انور مجید کے وکیل نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے والوں سے ڈر لگتا ہے انہوں نے بڑے بڑے معتبر لوگوں کو نہیں چھوڑا ہے۔ پانچ ماہ سے ملزمان جیل میں ہیں انہیں ضمانت دی جائے۔ سندھ میں آتے ہوئے ویسے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں ایف آئی اے والے میرا نام بھی تحقیقات میں نہ ڈال دیں۔

وکیل صفائی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہیں تحقیقات میں آپ کا نام بھی نہ لکھ دیا جائے۔

جج نے ریمارکس دیے کہ کیس فائل نہیں ہوا ہے تفتیشی افسر بھی موجود نہیں ہیں اور ایف آئی اے کیس ملتوی کرنے کی درخواست کر رہی ہے۔

آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی آمد سے قبل ہی جیالے اور پارٹی رہنما بینکنگ کورٹ کے باہر موجود تھے جب کہ رینجرز اور پولیس کی بھی بھاری نفری عدالت کے باہر تعیناتی تھی۔

گزشتہ سماعت میں پیپلزپارٹی کے جیالے کارکنان کی جانب سے بد نظمی پر رینجرز طلب کی گئی تھی اور آج بھی ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے رینجرز تعینات کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز