موجودہ حکومت نے اچھی پیچ کو تباہ کردیا، اسحاق ڈار


اسلام آباد: سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی روپے کی قدر مزید نیچے آئے گی، موجودہ حکومت نے بنی بنائی اچھی پیچ کو تباہ کردیا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ’ندیم  ملک لائیو‘ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ملک چلانا نہیں آتا تو کوئی بات نہیں آپ سیاست بند کریں اور ملک کی معاشی حالت کو وہیں لے کر جائیں جہاں ہم نے چھوڑی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کیلئے ڈالر نہیں خریدا یہ صاف جھوٹ ہے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ کیوں خسارے میں جارہے ہیں، ہمارے پاس ریزرو تین ملین تھے میں نے 23 ملین کر کے چھوڑے، اگر اس ملک کی معیشت کو چلنے دیا جاتا تو اچھا ہوتا اسی لیے ہم چارٹر اف اکانومی کی بات کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بتایا نہیں جا رہا کہ کتنا قرض لینا ہے اور روپے کی قدر کہاں لے کر جائیں گے، یہ ہٹ اینڈ ٹرائل کر رہے ہیں، میں موجودہ فنانس بل سے مطمئن نہیں ہوں، اس سے متوسط طبقے پر وزن بڑھے گا۔

عقیل کریم ڈیڈھی نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی گیمبل کر رہی ہے انہوں نے مقامی صنعت کو بچانے کیلئے ڈیوٹی بڑھائی ہے جس سے درآمدات کی رفتار سست ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج اور حکومت اکٹھی چل رہی ہیں، یہی اس حکومت کی کامیابی ہے، آرمی چیف اور وزیراعظم کی ساکھ کی وجہ سے ہمیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک سے قرضہ ملا۔

انہوں نے کہا کہ جس دن ہم افغان جنگ سے نکلے اسی دن ملک میں سرمایہ کاروں کی بھرمار لگ جائے گی اور بہت سارے ممالک سی پیک میں شامل ہوں گے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ پہلی حکومت دیکھ رہی ہوں جو چھ ماہ میں تیسری بار بجٹ لے کر آئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اپنی ترجیحات کا علنم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہر حکومت اپنی مدت پوری کرے اور عوام کو ریلیف ملے، موجودہ حکومت نے بجٹ میں غریب کی بات کر کے بینکنگ شعبے کو فائدہ دیا۔

ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا حکومت جو تواتر سے بجٹ لا رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں نہیں ہے اور مقامی کاروبار بھی بے یقنیی سے دو چار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آمدن کا زیادہ دارومدار ٹیکس پر ہے لیکن موجودہ حکومت نے ایک سو چوہتر کا ٹیکس کم کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگ پیسے کہاں سے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی ایک ہی پالیسی ہے مانگو مانگو اور مانگو اس کے علاوہ ان کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی اس طرح کی پالیسز سے ملک نہیں چلتے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز