روہنگیا  پناہ گزینوں کی اپنی شناخت موجود ہے،انجلینا جولی

فائل فوٹو۔–

اسلام آباد: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اوراقوام متحدہ ہائی کمشن برائے پناہ گزین (یواین ایچ سی آر) کی نمائندہ خصوصی انجلینا جولی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نے روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دے کر سخاوت کو مظاہرہ کیا ہے۔

انجلینا کا کہنا تھا کہ روہنگیا کو بھی عزت و وقار کے احساس کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے لیکن یہ ابھی معاملے میں ابھی تک بہت مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روہنگیا  پناہ گزینوں کی اپنی شناخت موجود ہے جو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر اور حکومت کی جانب سے ثبوت اور دستاویزات کے ساتھ فراہم کی جارہی ہے۔

انجلینا جولی بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کررہی ہیں جو کل تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ  ریاست راخائن سے 70 ہزار افراد کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کرکے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔

ابھی بھی پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،انجلینا جولی

انجلینا نے کہا کہ ایک برس سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن ابھی بھی پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ معروف اداکارہ نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ روہنگیا  کی ہلاکتوں کی کوئی حتمی تعداد نہیں ہے تاہم مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اب  تک خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں روہنگیا کو مارا جاچکا  ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج ہم ایک گنجان اور بڑے پناہ گزین کیمپ کی میزبانی کررہے ہیں جو 60 ہزار سے زائد پناہ گزینوں کا گھر ہے۔ موروثی طور پر تمام پناہ گزین خطرناک ہوتے ہیں لیکن روہنگیا صرف بے گھر ہی نہیں بلکہ بے وطن بھی ہیں۔

کیمپ میں پناہ گزین خاندانوں سے مل کر گہرا دکھ پہنچا،انجلینا 

انہوں نے کہا کہ کیمپ میں ایسے خاندانوں سے مل کر گہرا دکھ پہنچا جن کے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا جاتا تھا اور وہ صرف بے وطن ہونے کے نظرئیے سے واقف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ روہنگیا پناہ گزنیوں اور دوسرے پناہ گزینوں میں  کوئی فرق نہیں، وہ بھی سب کی طرح اپنے گھروں کو واپس جانے کے خواہاں ہیں جو ان کا حق بھی ہے لیکن اس وقت جب وہ مکمل طور پر محفوظ ہوں اور ان کے حقوق کی پاسداری کی جائے۔

انجلینا نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمےداری میانمار حکومت کی ہے اور وہ ہی ان کی واپسی ممکن بنا سکتی ہے۔

انہوں نے میانمار حکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میانمار حکام ریاست راخائن میں تمام کمیونیٹز کے لیے ناصرف حالات کو بہتر کریں بلکہ تشدد اور نقل مکانی کے سلسل کے خاتمے کے وعدوں کو یقینی بنائے۔

ان کا کہنا کہ یہ کسی بھی حکومت کا بہت بڑا امتحان ہوتا ہے کہ خطرناک لوگوں سے کیسے نمٹا جائے جبکہ یواین ایچ سی آر حالات جو بہتر کرنے کے لیے مکمل تعاون کرے گا کیونکہ موجودہ صورتحال میں روہنگیا میانمار واپس نہیں جاسکتے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز