میڈیکل گراؤنڈ پر نوازشریف کی ضمانت، درخواست پر سماعت ملتوی

نواز شریف نے کارکنوں کو 23مارچ کو جیل کے باہر جمع ہونے سے روک دیا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کیلئے دائر درخواست پر سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت کا سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس چاروں رپورٹس موجود ہیں؟ فریقین کو بھی میڈیکل رپورٹس کی کاپیاں دے دیں.

عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ کی سزا معطلی کی دوسری درخواست پر سماعت کب ہو گی؟

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ میں نے وہ سزا معطلی کی درخواست واپس لینے کی درخواست دے دی ہے، اب حالات ایسے ہیں کہ چاہتا ہوں عدالت اس درخواست کو سنے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہیں پھر آپ فیصلہ کر لیں کس کو رکھنا ہے۔ 18 فروری کو اس درخواست پر سماعت ہے، اس کو بھی اس کے ساتھ مقرر کرتے ہیں۔

خواجہ حارث نے استدعا کی کہ 18 فروری بہت دور ہے، درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ عدالت میڈیکل گراؤنڈ پر نوازشریف کی درخواست ضمانت پر سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹس بھی  جمع کرائی گئیں جس میں سفارش کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم کو ایسے اسپتال میں رکھا جائے جہاں 24 گھنٹے اچھی طبی سہولیات میسر ہوں۔

میڈیکل رپورٹ میں  اسپیشل میڈیکل بورڈ نے متفقہ رائے دی ہے کہ نواز شریف کو دل کی شریانوں کا مرض لاحق ہے لہذا ان کے پرانے معالج سے بھی مشورہ کیا جائے۔

ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق بلڈ شوگر اور بلڈ چارٹ کو مینٹین رکھا جائے، انجیکشنز کی تعداد میں 20 سے بڑھا کر 24 کردی گئی ہے اور رپورٹ میں مریض کے لیے مستقل آرام بھی تجویزکیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے العزیزیہ کیس میں سزا کیخلاف میڈیکل گراؤنڈز پر ضمانت کی درخواست دی تھی اور ابتدائی سماعت میں عدالت نے ملزم کی میڈیکل رپورٹس طلب کی تھیں۔

نواز شریف نے دل کے عارضہ کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

نواز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کی تین ہارٹ سرجریز ہو چکی ہیں، ہائی کورٹ سے اپیل پر فیصلہ آنے تک سزا معطل کر کے اُنہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق نواز شریف کو خصوصی علاج کی ضرورت ہے اور میڈیکل بورڈ نے اُنہیں اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز