انسٹا گرام:نقصان پہنچانے والی وڈیوز اور تصاویر پر پابندی کا فیصلہ

اسلام آباد: سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹاگرام نے ایسی تصاویر اور ویڈیوز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں دکھائی دینے والے افراد خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہوں۔

اس بات کا اعلان انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے مؤقر اخبار ’ دی ٹیلیگراف‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مستقبل میں انسٹاگرام کے پلیٹ فارم سے ایسی کسی تصویرکو شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہو۔

ایڈم موسیری نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انسٹا گرام اپنے سرچنگ نظام کوبھی یکسر تبدیل کررہا ہے۔


انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری کی جانب سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب 2017 میں خود کشی کرنے والی لڑکی کے والدین کی جانب سے اس ضمن میں باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے۔

ایڈم موسیری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اپنی کمیونٹی کے تحفظ سے زیادہ ان کے لیے کچھ بھی اہم نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اطہار کیا کہ انسٹاگرام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے آئندہ مستقبل میں بھی وہ اور زیادہ اقدامات اٹھائیں گے۔

برطانیہ کے شہری آئرن رسل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انسٹا گرام اس کی بیٹی ’مولی‘ کی خود کشی کا ذمہ دار ہے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ انسٹا گرام نے ان کی بیٹی کے لیے ایسی تصاویر اور مواد مہیا کیا جس سے خود کشی سمیت خود کو نقصان پہنچانے کے پیغامات دوسروں تک بھیجنے کی ترغیب ملتی تھی۔

عالمی ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ کچے اذہان کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے استعمال کے قوانین کا ہونا از حد ضروری ہے۔

آئرن رسل نے دعویٰ کیا تھا کہ انسٹاگرام کی تصاویر نے ہی ان کی بیٹی کو خود کشی کی جانب راغب کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس ضمن میں باقاعدہ تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔

چودہ سال کی طالبہ مولی نے خود کشی سے قبل لکھے جانے والے نوٹ میں کہا تھا  کہ وہ انسٹاگرام کی بعض تصاویر اور جذبات ابھارنے والی پوسٹ سے متاثر ہوئی ہے۔

مولی نے خود کو کمرے میں پھانسی دے کر دار فانی کو الوداع کہا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز