مشرق وسطیٰ امن منصوبہ یا ڈیل آف دی سینچری؟

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کا تیار کردہ ’نیا امن منصوبہ‘ بہت جلد منطر عام پر آجائے گا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی میں برسر اقتدار موجودہ ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے ’ڈیل آف دی سینچری‘ نامی منصوبے پر کام کررہی ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسی ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اورنمائندہ خصوصی جیسن گرین بلیٹ کے دورہ مشرق وسطیٰ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

ترتیب دیے جانے والے شیڈول کے مطابق کشنر اور جیسن فروری کے آخر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اومان اور بحرین پہنچیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام اپنے اس دورے میں امریکہ کی جانب سے تیار کردہ امن منصوبے پر عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مشرق وسطیٰ کے حالات پہ نگاہ رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اسی منصوبے میں مسئلہ فلسطین کا نیا حل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

اکتوبر 2018 میں شرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیار کردہ امن منصوبے میں اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ فلسطینیوں کو بھی حقوق دلانے کی کوشش کی جائے گی۔

مؤقر اسرائیلی اخبار’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے امن منصوبے میں فلسطین اور اردن کو ایک کنفیڈریشن میں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2018 میں کہا تھا کہ ان کا امن منصوبہ دو ، تین اور یا آئندہ چار ماہ کے اندر  پیش کردیا جائے۔ انہوں نے فلسطین اسرائیل تنازع کے لیے دو ریاستی حل کی تجویز کی بھی حمایت کی تھی۔

امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔

امریکہ نے چھ دسمبر 2017 کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جنوری 2018 میں ایک فلسطینی عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ اس کے حوالے سے خبر دی تھی کہ فرانسیسی سفارت کار امریکی انتظامیہ کی درخواست پر مصالحت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینی قیادت کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ امریکی امن منصوبے کو ایک موقع فراہم کرے اور اس کی تفصیلات جانے بغیر مسترد نہ کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کا دعویٰ تھا کہ فرانسیسی صدر کے مشیر اور لیان لوشوفالے نے کچھ عرصہ قبل رام اللہ میں پی ایل او کے سیکریٹری صائب عریقات اور فلسطیینی انٹلی جنس کے سربراہ ماجد فرج سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ویب سائٹ کا وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار کے حوالے سے کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم  کیے جانے کے بعد مذکورہ امید کے سوا فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تمام تر تعلقات موقوف ہو چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ وہائٹ ہاؤس نے اس امر کی تردید کی ہے کہ صائب عریقات کی جانب سے فلسطینی مرکزی کونسل کو پیش کی جانے والی دستاویزات دراصل ڈیل آف دی سینچری کی شقوں پر مشتمل تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے جون 2018 میں ہی واضح کردیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے جلد ایک منصوبہ پیش کیا جائے گا خواہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس کا حصہ بنیں یا نہ بنیں۔

فلسطینی اخبار ’القدس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر نے کہا تھا کہ اگر صدر عباس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت کی جاسکتی ہے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھرعین ممکن ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ایک نیا منصوبہ پیش کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز