خواتین کو ہراساں نہ کرنے کے قانون کو مضبوط بنائیں، سپریم کورٹ

فوٹو: فائل


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خواتین کے کام کرنے کی جگہوں پر ہراساں نہ کرنے کے قانون کو مضبوط بنانے کی ہدایت کر دی۔

سابق وفاقی محتسب برائے ہراسگی خواتین یاسمین عباسی کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے جج کو توہین عدالت نوٹس معاملے پر سماعت ہوئی۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور صوبائی حکومتوں سے قانون کی تشریح کے حوالے سے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرل بین الاقوامی قوانین سے عدالت کو قانونی مدد فراہم کریں۔

عدالت نے خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں نہ کرنے کے قانون کو مضبوط بنانے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔ صوبوں کو سننا بہت ضروری ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر خواتین کو ہراساں ہونے سے نہیں بچا سکتے تو ہمیں شرم آنی چاہیے۔ قوانین ایسے بنائے جائیں کہ خواتین شکایات کا اندراج بھی کرا سکیں۔

وفاقی محتسب برائے ہراسگی خواتین کشمالہ طارق نے کہا کہ سندھ میں شکایات صفر ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لوگ اس معاملے میں بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر شکایت نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے خواتین کو اعتماد میں نہیں لیا۔

انہوں ںے کہا کہ اس قانون کو اس طرح بنانا ہے کہ خواتین شکایات درج کرا سکیں۔ صوبائی حکومتیں خواتین کی ہراسگی قانون میں ترامیم نہ کریں تو اچھا ہے اور اگر ترمیم کرنی ہے تو اس قانون کو زیادہ مضبوط بنائیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب اس قانون کو کمزور نہیں کرے گی۔

کشمالہ طارق نے درخواست کی کہ تمام صوبوں سے خواتین ہراسگی کے اعدادو شمار منگوائے جائیں۔

سپریم کورٹ نے سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

سابق وفاقی محتسب برائے ہراسگی خواتین یاسمین عباسی نے لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس منصور علی شاہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔


متعلقہ خبریں