کلبھوشن یادیو کیس، عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے دلائل

پیرس: عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہوئی۔ پاکستان نے دوسرا ایڈہاک جج بٹھانے کی اجازت مانگ لی۔

پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق جیلانی بیماری کے باعث پیش نہیں ہوسکے جس کے بعد پاکستان نے عدالت نے دوسرا ایڈہاک جج بٹھانے کی درخواست کی۔ عدالت نے پاکستان وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔

پاکستانی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ پاکستان اپنا کیس پیش کرنے کے لیے مکمل پرعزم اور تیار ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت نے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرائی اور جاسوس بھیجے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ہونے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا اور اسے بلوچستان، گوادر، کراچی میں دہشت گردی کرانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان دشمن ملیشیا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے، پاکستان کے خلاف بھارت کی منصوبہ بندی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

انور منصور نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں نے پاکستان میں سینکڑوں افراد کو نشانہ بنایا جب کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرمی پبلک سکول حملے میں 140 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا جب کہ آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا۔ پاکستان کو اب تک دہشت گردی سے 130 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

پاکستانی وکیل رانا خاور قریشی نے کہا کہ بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا بے بنیاد الزام لگایا جب کہ بھارت نے گزشتہ روز کئی سوالوں کے جواب ہی نہیں دیے۔ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈا کیا۔

انہوں ںے کہا کہ ویانا کنویشن کا اطلاق جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا ہے تاہم ویانا کنویشن کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کا آپشن موجود ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف حقائق اور عائد الزامات سے متعلق شواہد پیش کیے۔

خاور قریشی نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت نے کلبھوشن جادیو کی شہریت کا ہی اعتراف نہیں کیا تو قونصلر رسائی کا مطالبہ کیسے کرسکتا ہے؟

بھارت نےعدالت کو نہیں بتایا کہ وہ حسین مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو ہے،جب ایک شخص کی شناخت مصدقہ ہی نہیں تو قونصلر رسائی کیسی؟

انہوں نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ کلبھوشن کو ایران سے اغوا کیا گیا تو اب تک ایران سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟پاکستان نے اسے ایران سے نہیں بلوچستان سے گرفتار کیا ہے، ہمپٹی ڈمپٹی کی طرح بھارت بھی جھوٹ کی کمزور دیوار پر بیٹھا ہے۔

خاور قریشی نے مزید کہا کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ’’را‘‘نے بلوچستان کو غیرمستحکم کرنا شروع کیا، کلبھوشن یادیو کے پاس مسلمان نام سے پاسپورٹ کیوں موجود تھا؟

خاور قریشی کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کی ایران سے گرفتاری کے بعد بھارت نے کیا تحقیقات کیں؟بھارتی جاسوس کو ایران سے پاکستان اغوا کر کے لانے کے الزام کا کیا ثبوت ہے؟ ایران سے پاکستان کے9 گھنٹے کے سفر کا بھارت کے پاس کیا ثبوت ہے؟

گزشتہ روز بھارتی ٹیم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی حمایت میں اپنے دلائل پیش کیے تھے۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کیس کی سماعت 21 فروری تک جاری رہے گی جب کہ کیس کا فیصلہ 6 ماہ بعد آئے گا۔

گزشتہ روز سماعت سے قبل پاکستانی جج تصدق حسین جیلانی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا اور وہ عدالت نہیں پہنچ سکے تھے جب کہ آج بھی تصدق جیلانی طبیعت ناسازی کے باعث عدالت نہیں آئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں کوئی نئی دلیل پیش نہیں کی جب کہ کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کے متعلق بھارت  کوئی خاص وضاحت پیش نہ کر سکا۔

یہ بھی پڑھیے

کلبھوشن کیس: ’بھارت نے کوئی نئی دلیل پیش نہیں کی‘

بھارت عالمی عدالت انصاف میں وضاحت نہ کرسکا کہ کمانڈر یادیو کہاں سے آیا اور کیسے آیا، بھارت یہ وضاحت بھی نہ دے سکا کہ کمانڈر یادیو کو پاسپورٹ کیسے ملا۔ بھارتی کلبھوشن یادیو کی ریٹائرمنٹ پر بھی کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔

گزشتہ روز کی سماعت میں بھارت کیس کے میرٹ پر بات کرنے کی بجائے قونصلر رسائی پر بات کرتا رہا اور دیے گئے وقت میں بھارتی وکیل نے آدھا وقت قونصلر رسائی نہ دینے  کے حوالے سے دلائل میں گزار دیا۔

پاکستان بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارت کے تمام دعوے مسترد کر چکا ہے، کلبھوشن یادیوکو مارچ 2016 میں بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن یادیو پر جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات ہیں۔

فوجی عدالت میں کلبھوشن یادیو نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017 کو سزائے موت کی توثیق کی تھی۔

کلبھوشن یادیو نے 22 جون 2017 کو سزائے موت کے خلاف آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی تھی۔ رحم کی اپیل میں کلبھوشن یادیو نے را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز