آغا سراج درانی کے گھر کا محاصرہ، اہلیہ کی طبیعت خراب

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی کی ٹیم نے ڈیفنس کھڈا مارکیٹ میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے گھر کا محاصرہ کرلیا جس کے بعد سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو گھر کے اندر جانے نہیں دیا جارہا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ نیب کراچی کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری آغا سراج درانی کے گھر کے باہر موجود ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نیب کی ٹیم ڈھائی گھنٹے آغا سراج درانی کے گھر کے باہر کھڑی رہی، بعدازاں گھر میں داخل ہوئی۔

نیب کا اعلامیہ

بعدازاں پیپلز پارٹی کے رہنما بشمول شہلہ رضا، مرتضیٰ وہاب، سید قائم علی شاہ ، نثار کھڑو، امتیاز شیخ، مکیش چاولہ اور دیگر آغا سراج درانی کے گھر پہنچ گئے تاہم سیکیورٹی حکام نے کسی کو اندر نہیں جانے دیا۔

رات گئے نیب کی ٹیم گھر سے روانہ ہوئی جس کے بعد ہی پی پی پی رہنما گھر میں داخل ہوسکے۔

سراج درانی کی اہلیہ کی طبیعت خراب

دوسری جانب آغا سراج درانی کی اہلیہ کی طبعیت خراب ہو گئی جس کے باعث ان کے فیملی ڈاکٹر گھر پہنچے۔

ڈاکٹر دیدار نے ہم نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اہلکار اندر جانے نہیں دے رہے۔ شہلہ رضا کے مطابق اندر سے ڈاکٹر کو فون کر کے بلایا گیا تھا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ چھاپے کے دوران گھر سے کروڑوں روپے مالیت کی 8 گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

گاڑیوں سے متعلق نیب کل محکمہ ایکسایز کو خط لکھے گی جبکہ نیب نے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کی دستاویزات تحویل میں لے لیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب نے گاڑیوں سمیت دیگر سامان ضبط کرنے کی کارروائی شروع کردی۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری

اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد سے گرفتارکرلیا۔

گرفتاری کے بعد ان کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک میں جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آغا سراج درانی کو تین دن میں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی پر سرکاری فنڈز میں خرد برد  اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

معاملے پر اپنے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آغا سراج درانی کو کرپشن کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جسے گرفتار کیا جاتا ہے وہ نیلسن مینڈیلا بن جاتا ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کا شمار آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

ادھر مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آغا سراج درانی گرفتاری کے پیچھے کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ سراج درانی کے خلاف انکوائری چل رہی تھی لیکن کوئی کیس نہیں بنایا گیا۔ اگر انکوائری کے دوران گرفتاری ضروری ہے تو کیا چوہدری پرویز الہی اور اسد قیصر کیخلاف انکوائری نہیں چل رہی؟

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیردفاع کیخلاف بھی انکوائریاں چل رہی ہیں ان کی گرفتاریاں کیوں نہیں ہو رہی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز