بھارت کی آبی دہشت گردی: پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی

اسلام آباد: بھارت کے  مرکزی وزیر آبی وسائل نتن گاڈکری نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ  وزیر اعظم نریندرا مودی کی قیادت میں ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بہنے والے اس پانی کو روک دیا جائے جو ہمارے حصے کا ہے لیکن بہہ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ نتن گاڈکری کے مطابق بھارت مشرقی دریاؤں کا پانی روک کر اسے جموں و کشمیر اور بھارتی پنجاب میں آباد اپنے لوگوں کو دے گا۔

دریائے چناب پر بھارت پہلے ہی دو ڈیموں کی تعمیر شروع کرچکا ہے۔ دونوں ممالک چھ دریاؤں کا پانی استعمال کرتے ہیں جن میں ستلج، راوی، بیاس، دریائے سندھ اور جہلم شامل ہیں۔

پاکستانی پانیوں پر بھارت کی جانب سے بنائے جانے والے ڈیموں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی تقسیم پر تنازع بھی ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی پرپاکسان انڈس حکام نے اسے گیدڑ بھبکی سے تعبیر کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈپٹی انڈس کمشنر شیراز میمن کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس ہمارے دریاؤں کا پانی روکنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق نریندر مودی کے وزیراعظم بنتے ہی انہیں دی جانے والی بریفنگ میں بتا دیا گیا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کے مطابق پاکستان کے سابق انڈس کمشنر مرزا اسد بیگ کا کہنا ہے کہ اس وقت بھارت جس قدر پانی روک سکتا ہے وہ مادھوپور پر روک لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  فی الحال اس کا انفراسٹرکچر ایسا نہیں ہے کہ وہ مزید پانی روک سکے۔

بھارت کے کئی رہنما گزشتہ عرصے میں سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے اور تمام دریاؤں کا پانی پاکستان جانے سے روکنے کے مطالبے کر چکے ہیں۔

ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے کا نگراں ہے اور پاکستان کئی بار بھارت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ورلڈ بینک سے شکایت بھی کر چکا ہے۔

پلوامہ واقعہ کے بعد سے بھارت کی انتہا پسند جنونی حکومت پے در پے ایسے اقدامات اٹھانے کا اعلان کررہی ہے جس سے دو ایٹمی طاقت کی حامل قوتوں کے درمیان کشیدگی جنم لے رہی ہے جو کسی طور خطے اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز