بھارت کو جواب لازمی دیا جائے گا، شاہ محمود


اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے دراندازی کرکے خطے کی سیکیورٹی خطرے میں ڈال دی ہے، پاکستان حملے کے جواب کیلئے جگہ اور وقت کا تعین خود کرے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو حملے کی جگہ کا دورہ کرایا جائے گا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ بھارتی دراندازی کا معاملہ او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے گا اور بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

مسلح افواج اور عوام ہر طرح کے حالات کیلئے تیار رہے، وزیراعظم

بھارتی فضائیہ کی دراندازی، پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی سے دشمن فرار

شاہ محمود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ او آئی سی کے بانی ملک پر جارحیت کی گئی ہے اور بھارت نے بلااشتعال دراندازی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی جارحیت کے بعد ترکی کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔  آج او آئی سی کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ  اٹھایا جائے گا۔

شاہ محمود نے بتایا کہ ہم نے یو اے ای کے وزیرخارجہ سے گزشتہ روز تفصیلی بات اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کونسل آف فارن منسٹر میں بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو بلانے کیلئے ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کل ہمارا مؤقف  تھا کہ ایک ایسے ملک کو کانفرنس میں بلایا گیا ہے جو نہ ممبر ہے اور نہ آبزور، لیکن آج صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، آج او آئی سی کے بانی ممبر پر جارحیت کی گئی ہے۔

او آئی سی ایک ایسا ادارہ جو مسلمانوں کی آواز ہے اور بھارت مسلسل کشمیر پر او آئی سی کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتا آیا ہے۔ پاکستان پر جارحیت کے بعد کونسل آف فارن منسٹر میں بھارت کی گنجائش نہیں، ہم انتظامیہ سے کہیں گے کہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔

انہوں نے بتایا کہ کل نیشنل کمانڈ اتھارٹی اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ پارلیمانی لیڈرشپ سے رجوع کرنے کے لیے پرویز خٹک کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو سیاسی رہنمائوں سے رابطہ کرے گی۔

کمیٹی پاکستان کی سیاسی قیادت کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر دشمن نے جارحیت کی تو ہم اس کا جواب دیں گے۔

شاہ محمود نے بتایا کہ ہم نے پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے تمام ممالک کو آگاہ کیا تھا کہ بھارت کی طرف سے جارحیت کا خدشہ ہے، اگر ایسا ہوا تو خطے کے امن کیلئے یہ بہت بڑی ضرب ہوگی۔ ہم نے بھارت کے دوست ممالک سے کہا تھا کہ اسے اشتعال انگیزی سے باز رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ تھا اور اس خدشے سے نمٹنے کیلئے پاکستان سیاسی، عسکری اور سفارتی تیاری کر رہا ہے۔

شاہ محمود نے بتایا کہ 2:55 منٹ پر بھارتی طیارے ہماری حدود میں داخل ہوئے اور 2:58 منٹ پر پاکستانی حدود سے نکل گئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے بتایا کہ یہ وقت پاکستانی فوج کی قابلیت پر سوال اٹھانے کا وقت نہیں، فیصلہ سازی سیاسی اور عسکری قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔ قل اسکیل وار کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال بہت نازک ہے اور میں کوئی غیر ضروری بیان نہیں دوں گا۔

کرتار پور کے مستقبل پر سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے راستے بند کرنے کیلئے نہیں کھولے، لیکن بھارت راستے بند کرنے پر تلا ہوا ہے۔

کیا پاکستان کا جواب وزیراعظم کے اس بیان کے مطابق ہے کہ ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے؟

وزیردفاع نے بتایا کہ بھارتی طیارے 3 سے 4 کلومیٹر اندر آئے، مدرسے پر حملے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ ہے۔ رات کی وجہ سے اس بات کا جلد اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

 


متعلقہ خبریں