بھارتی دراندازی،پاکستانی ردعمل پر این سی اے مطمئن

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس

فوٹو: فائل


اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجود سمیت دیگر سروسز چیفس، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور دفاعی پیداوار کے وزرا کے علاوہ کمانڈ اتھارٹی کے ممبر وزرا، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایس پی ڈی شریک تھے۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ ڈی جی اسٹریٹجک پلانز ڈویژن نے پاکستان کی جوہری صلاحیت پر بریفنگ دی۔

شرکاء نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد اور بھارتی دراندازی کے جواب میں پاکستانی ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے بروقت جوابی کارروائی پر پاک فضائیہ کی تعریف کی۔

اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو پاک فوج کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے، حکومت، فوج اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں، پاکستان ایک ذمہ دار ایمٹی طاقت ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں عسکری قیادت نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک فوج کی پیشہ وارانہ تیاریاں ہر لحاظ سے مکمل ہیں۔

اجلاس میں پاک فضائیہ کے آج کیے گئے آپریشن پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جب کہ اجلاس میں موجودہ پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

فوج کی جانب سے وزیر اعظم کو پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ بھارت کی جانب سے وقتاً فوقتاً لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی سے بھی آگاہ کیا گیا۔

پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر اہم فیصلے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کا سرپرائز، 2 بھارتی طیارے تباہ کر دیے

گزشتہ روز قومی سلامتی اجلاس میں  نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلانے کی منظوری دی گئی تھی۔

پاکستان نے آج صبح فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا جب کہ دو پائلٹ بھی گرفتار کیے گئے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی

نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایک ایپکس سویلین کمانڈ کمیٹی ہوتی ہے جو کئی معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔

اتھارٹی کے پاس جوہری ہتھیاروں کا کنٹرول اور آپریشنل کمانڈ کی نگرانی ہوتی ہے جب کہ روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار بھی نیشنل کمانڈ ا اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے۔

یہ ایک متحدہ ملٹری کمانڈ کا ایک اسٹرکچر ہے جو وزیراعظم اور کابینہ کو مخصوص خطرات جیسا کہ ملٹری، نیو کلئیر، کیمیکل، بائیولوجیکل حملوں کے خطرات وغیرہ کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے اور ان خطرات سے بروقت نمٹنے سے متعلق بھی آگاہ کرتا ہے۔

کمانڈ اتھارٹی کا چیئرمین وزیر اعظم ہوتا ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام کی ضرورت اس وقت پیش آئی تھی جب 1998 میں پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کیے تھے۔


متعلقہ خبریں