برطانیہ: مسلمانوں پر حملہ کر کے زخمی کرنے والا مجرم جیل پہنچ گیا

برطانیہ: مسلمانوں پر حملہ کر کے زخمی کرنے والا مجرم جیل پہنچ گیا

لندن: برطانیہ میں مسجد سے پیدل گھر جانے والوں پہ گاڑی چڑھا کرانہیں زخمی کرنے اور مذہبی منافرت پر مبنی سخت جملے کہنے کا جرم ثابت ہونے پر مقامی عدالت نے 25 سالہ مارٹن کو جیل بھیج دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے تحت پانچ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے کے علاوہ مجرم آئندہ ساڑھے سات سال تک ڈرائیونگ کرنے کے لیے بھی نااہل رہے گا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق مارٹن اسٹاکس نے ستمبر کی ایک رات جنوبی لندن میں واقع الحسینی ایسوسی ایشن مسلم کمیونٹی سینٹرسے متصل مسجد سے پیدل جانے والوں پر جان بوجھ کر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق ویمبلے کے قریب واقع لنٹن کا رہائشی 25 سالہ مارٹن اسٹاکس نے نشے کی حالت میں مسجد کے قریب اپنی گاڑی پارک کی تھی۔ اس وقت مسجد میں عبادت ہو رہی تھی۔

عدالت سے مجرم قراردیے جانے والے مجرم نے دوران پارکنگ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیگر کے ساتھ مل کرغل غپاڑہ کیا تو وہاں موجود افراد نے منع کیا۔

مارٹن نے نہ صرف بات ماننے سے انکارکیا بلکہ انتہائی غصے اورنفرت سے مذہبی منافرت پر مبنی تلخ جملے ادا کرتے ہوئے مسجد سے جانے والے افراد پر جان بوجھ کرگاڑی چڑھا دی جس کی زد میں آکرتین افراد زخمی ہوگئے۔

میٹروپولیٹین پولیس کے مطابق مجرم اس واقعہ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا تھا جب کہ زخمی ہونے والے 50 سالہ ایک شخص کو اسپتال میں تین ہفتے تک زیر علاج رہنا پڑا تھا۔

2017 میں بھارتی میڈیا گروپ ’نیوز 18‘ نے بتایا تھا کہ مانچسٹر میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں 500 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ نیوز 18 نے برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے کہا تھا کہ سال 2016 میں 37 کے مقابلے میں مسلم مخالف نفرت پر مبنی جرائم کی 224 رپورٹیں درج ہوئی تھیں۔

بھارت کے میڈیا گروپ نے مانچسٹر پولیس کے حوالے سے کہا تھا کہ اسلام سے وابستہ واقعات میں 505 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے مارچ 2018 میں ایک ایسے خط کے حوالے سے خبر دی تھی جس میں مسلمانوں پر حملے کرنے کی باقاعدہ ترغیب دی گئی تھی۔

بی بی سی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس پورے برطانیہ کے مختلف شہروں میں آباد افراد کو ملنے والے ایک ایسے خط کے متعلق تحقیقات کررہی ہے جس میں تین اپریل کو’ پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی ’مسلمانوں کو سزا دینے کا دن‘ کے طور پر منانے کا کہا گیا تھا۔

برطانیہ میں آباد مختلف افراد کو بھیجے جانے والے خط میں مسلمانوں کے خلاف مختلف پرتشدد اقدمات اور ان کے نتیجے میں ملنے والے ’پوائنٹس‘ تک کا ذکرتھا۔


متعلقہ خبریں