نندی پور ریفرنس:سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف اوربابراعوان پرفرد جرم عائد

بابر اعوان اور راجہ پرویز اشرف پر 24 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی جائے گیؔ | humnews.pk

اسلام آباد: احتساب عدالت میں نندی پور ریفرنس کی سماعت جج ارشد ملک  نے کی۔  سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف،بابراعوان ودیگر 7ملزموں پرفرد جرم عائدکردی گئی ہے۔  ملزمان  کو چارج شیٹ پڑھ کر سنائی گئی۔ تمام ملزمان  نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکارکیاہے۔

عدالت نے  ساتوں ملزمان کے ٹرائل اورملزمان کیخلاف گواہوں کو طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اس موقع پر عدالت کی طرف سے کہا گیا کوشش ہوگی اس ریفرنس کو جلد سے جلد نمٹایا جائے گا،عدالت نے استغاثہ کے گواہ محمد نعیم کو طلب کرلیا۔انیس مارچ کے لیے گواہ کی طلبی کے سمن بھی جاری کردیے گئے ۔ کیس کے پہلے گواہ کا تعلق وزارت پانی و بجلی سے ہے۔ کیس کی سماعت 19 مارچ تک ملتوی کردی گئی ۔

یاد رہے کہ  احتساب عدالت نے نندی پور پاور پروجیکٹ کیس میں وزیر اعظم کے سابق مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان سمیت سات ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ گزشتہ برس کیا تھا۔  ملزمان پر فرد جرم 24 اکتوبر کو عائد کی جانی تھی تاہم آج ملزمان پر فردجرم عائد کی جاسکی ہے ۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ ماہ چار ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نندی پور معاہدے کے لیے وزارت پانی و بجلی نے وزارت قانون سے رائے طلب کی جس نے رائے دینے میں دو سال لگا دیے۔ اس تاخیر کے باعث لاگت میں 27 ارب کا اضافہ ہوا اور تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان نے جان بوجھ کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

’گزشتہ ماہ چار ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا‘

ریفرنس میں نامزد کیے گئے ملزمان کی فہرست میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، وزارت قانون کے سابق سیکرٹریز مسعود چشتی اور ریاض کیانی بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں سابق کنسلٹنٹ شمیلہ محمود، سابق جوائنٹ سیکرٹری ریاض محمود اور وزارت پانی و بجلی کے سابق سیکرٹری شاہد رفیع کے نام بھی شامل ہیں۔

نیب کا مؤقف ہے کہ نامزد ملزمان کی غفلت کے باعث نندی پور منصوبے میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث خزانے کو 27 ارب کا نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:نندی پور اسکینڈل، بابر اعوان نیب کے سامنے پیش

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2011 میں رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں نندی پور کمیشن قائم کیا تھا، جس کا مقصد منصوبے میں تاخیر کی وجوہات معلوم کرنا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں وزارت قانون کے افسروں کو تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا اور رپورٹ کی روشنی میں وزارت قانون نے معاملہ نیب کو بھجوایا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز