پانی کی عدم فراہمی کے خلاف بھاگ ناڑی کا پیدل مارچ کوئٹہ پہنچ گیا

کوئٹہ: بلوچستان کے نواحی علاقے بھاگ ناڑی کو پانی فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والے ’بھاگ ناڑی ایکشن کمیشن ‘ کے شرکا گیارہ روز کی مسافت طے کرکے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ لانگ مارچ کا آغاز یکم مارچ 2019 کو ہوا تھا۔

پیدل مارچ کے شرکا نے 250 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ پہنچنے پرمتعدد شرکا کے پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے تھے اور کئی سخت تکلیف میں بھی مبتلا تھے۔

اطلاعات کے مطابق بھاگ ناڑی میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف بطور احتجاج گیارہ دن سے شٹر ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی بری طرح سے مفلوج ہے۔

بلوچستان کے نواحی علاقے بھاگ ناڑی سے تعلق رکھنے والے افراد علاقے کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے بطور احتجاج گیارہ روز کی مسافت پیدل طے کرکے کوئٹہ پہنچے ہیں۔

پانی کی عدم فراہمی کے خلاف بھاگ ناڑی کا پیدل مارچ کوئٹہ پہنچ گیا

ہم نیوز کے مطابق پیدل مارچ کے شرکا کا کوئٹہ کسٹم گاہی خان چوک پہنچنے پر مختلف سابق اراکین پارلیمنٹ اورسیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد نے استقبال کیا۔ شرکائے قافلہ سے لوگوں نے اظہار یکجہتی بھی کیا۔

پیدل مارچ کے شرکا نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھاگ ناڑی کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پرامن مظاہرہ کیا-

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بھاگ ناڑی ایکشن کمیشن کے چیئرمین وفا مراد اور دیگر نے کہا کہ علاقے کے جوہڑ اور تالاب سے انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ گندے پانی کی وجہ سے لوگ خطرناک امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

مقررین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جوہڑ اور تالاب کا گندا پینے سے لوگ مختلف خطرناک امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق مقررین نے کہا کہ شدید بارش، برفباری اور سرد موسم کے باوجود مصائب میں مبتلا افراد نے صرف پینے کا پانی مانگنے کے لیے گیارہ دن کا پیدل سفر کیا ہے۔

پرامن احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پینے کا پانی فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔

مظاہرین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بھاگ ناڑی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو جوہڑوں اورتالابوں کے گندے پانی سے نجات مل سکے۔

بلوچستان کے نواحی علاقے بھاگ ناڑی میں عوام کا پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد صوبائی حکومت نے دو پلانٹس بھی فراہم کیے تھے۔

دسمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پانی کی آلودگی پر کمیشن قائم کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے بلوچستان کے علاقے بولان میں آلودہ پانی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بھاگ ناڑی میں ایک ماہ کے اندر آراو پلانٹس نصب کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں بھاگ ناڑی میں انسانوں کے لیے گندے پانی کے تالاب کی ویڈیو چلائی گئی تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) ثاقب نثار نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے کہا تھا کہ ذرا حکومت بلوچستان دیکھے۔

سابق چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ اس طرح کا پانی آپ لوگوں کو پلا رہے ہیں؟ کون ہیں آپ کے کرتا دھرتا؟ چیف سیکریٹری کیوں نہیں آئے؟

چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ وزیراعلی بلوچستان آ جاتے اور دیکھتے۔

سابق چیف جسٹس نے  ڈپٹی کمشنر بولان کی سرزنش کرتے ہوئے عدالت میں دوران سماعت کہا تھا کہ آپ لوگوں کو زہریلا پانی پلا رہے ہیں، 1200 ملین روپے غیر ترقیاتی کاموں میں لگا دیئے، پانی صاف کرنے کا پلانٹ ہی لگا دیتے۔

چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کو بلا لوں گا اور اگر ساری کابینہ کو بلانا پڑا تو بھی بلاؤں گا۔

عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ امان اللہ کنرانی اور انجینئر عثمان بابائی پر مشتمل کمیشن تجاویز بنا کر دے کہ بلوچستان میں پانی کا مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟

سپریم کورٹ کے واضح احکامات تھے کہ محکمہ آبپاشی سمیت دیگر متعلقہ محکمے کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کریں گے۔

بھاگ ناڑی ایک لاکھ 20 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کا علاقہ ہے لیکن پانی کی سخت قلت کے سبب آہستہ آہستہ لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔

بلوچستان کے اس نواحی علاقے میں موجود ایک تالاب میں بارشوں کا پانی جمع ہوجاتا ہے تو لوگ اور جانور اسی کھلے تالاب سے مہینوں اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

اس علاقے میں اگر بارشیں نہ ہوں تو تالاب خشک ہوجاتا ہے جس کے بعد قحط آب کی صورتحال پید ا ہو جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز