یورپی یونین سے تزویراتی شراکت داری کامعاہدہ اسی ماہ ہوگا، قریشی

March 13, 2019

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کا کہنا ہے کہ  26 مارچ 2019 کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹرٹیجک(تزویراتی) شراکت داری کا معاہدہ ہوگا۔

اسلام آباد میں بزنس لیڈر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا 26 مارچ کو یورپین یونین اور پاکستان کے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بہت سے اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے اور ہم ان سے باخبر ہیں، ہمیں اداروں کے انحطاط کا ادراک ہے، 6.6 فیصد معاشی خسارہ، 10 سال میں قرضہ کے بوجھ کا کئی گنا بڑھنا، بیرونی سرمایہ کاری میں مستقل کمی اور بے روزگاری، 1/3 آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا یہ وہ تمام چیلنجز ہیں جن کا ہم پچھلے چھ ماہ سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ زراعت پاکستان کی معیشت پر براہ اثر انداز ہوتی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ تمام منفی عوامل سے نمٹنے اور اقتصادی بحالی کیلئے وزارت خارجہ میں ہمارا اولین فوکس معاشی سفارت کاری پر ہے،  ہمیں اپنے معاشی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطے میں امن کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہمارے خطے کی تعمیر و ترقی کے لئے ناگزیر ہے اس لیے ہم مستقلاً افغان امن عمل کے لیے سہولت کار کا ادا کر رہے ہیں۔ مشرقی سرحد پر، ہماری حکومت شروع سے امن اور مذاکرات کی بات کر رہی کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیرخارجہ نےبتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ 20 ارب کے معاہدے کرنا بھی ہماری اقتصادی بحالی کی طرف قدم ہے اور مہاتیر محمد جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں ہم ان کے تجربے سے مستفید ہونگے۔

ہم تاجروں سے بھی ٹیکس لیں گے

وزیرخزانہ اسد عمر نے  بزنس سمٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر اور برآمد کنندگان کیلئے طویل مدت کیلئے کم شرح سود پر قرض کی سہولت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ٹیکس چوری روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور اس کا اطلاق سب سے پہلے سگریٹ کے شعبے میں ہوگا۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ پہلے بینکوں سے ٹیکس نہ دینے والوں کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا تھا، ہم نے قانون کو تبدیل کیا اور ماہرین کو ڈیٹا کے ذریعے ٹیکس چوری روکنے کا کام دیا ہے، نادرا ایف بی آر کا ڈیٹا استعمال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا ڈیٹا عالمی بینک کو دیا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، ہم تاجروں سے بھی ٹیکس لیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز