سینیٹ کمیٹی کی سائبر سیکیورٹی اتھارٹی بنانے کی سفارش

سینیٹ کمیٹی سے سائبر سیکیورٹی اتھارٹی بنانے کی سفارش

فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سفارش کی  ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے سائبر سیکیورٹی اتھارٹی بنائی جائے۔

چئیرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیرصدارت ہوا جس میں دیگر کمیٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔

قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے بھارتی سوشل میڈیا اور سائبر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی سے بریفنگ طلب کی کہ پاکستان کا سائبر نظام کتنا محفوظ اور جوابی کارروائی کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے؟

وزیر برائے آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کمیٹی کو بتایا کہ سائبر سیکیورٹی اتھارٹی بنانا انتہائی ضروری ہے، روزانہ کی بنیادوں پر مختلف ویب سائٹس پر آنے والا مواد جلد ختم نہیں کیا جاسکتا، قابل اعتراض مواد کے ختم کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں بھارت کی جانب سے سائبر حملوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے ہمیں بریف کیاجائے کہ بھارت کے سائبر حملوں کو روکنے کے لئے ہمارا نظام کتنا مضبوط ہے، پاکستان میں فائر والز کس قسم کی استعمال ہورہی ہیں؟ ان معاملات پر پڑا پردہ نہیں اٹھے گا تو کچھ معلوم نہیں ہوگا، ہماری فائز والز مضبوط و کارآمد ہوناچاہیں تاکہ دفاعی صلاحیت بہتر بنائی جاسکیں۔

چیئرپرسن کا کہنا تھا موبائل اسمگلنگ کی روک تھام کی آڑ میں مسافروں کو پریشان کیا جارہا ہے، ذاتی استعمال اور تحائف کے لئے لائے جانے والے موبائل ضبط کرلئے جاتے ہیں، اسمگلنگ اور ذاتی استعمال کے سامان کی حیثیت کو واضح کرنا لازم ہے۔

کسٹم حکام نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ  15 فروری کے بعد سے اب 34 ہزار موبائل مسافر پاکستان لائے گئے ہیں اور 34 ہزارمیں سے 116 فونز پر ڈیوٹی ادا کی گئی۔

روبینہ خالد نے سوال کیا کہ آپ نے 116 فونز کی ڈیوٹی کیلئے یہ سارا نظام رائج کیا؟

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ہم نے موبائل رجسٹریشن سارا نظام آن لائن کردیا ہے اور ایئرپورٹ پر قائم تمام کاؤنٹرز ختم کردیئے ہیں۔

موبائل تصدیقی نظام لاگو کرنے پر کمیٹی کا نوٹس

پی ٹی اے کے موبائل تصدیقی نظام کو لاگو کرنے پر قائمہ کمیٹی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ روکنے کا کوئی اور نظام لائیں لوگوں کو پریشان مت کریں۔

سینیٹر کلثوم پروین کا کہنا تھا کہ موبائل فون مہنگے کردیئے گئے اور اوپر سے ڈیوٹیز بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ صرف 4 کنٹینرز پکڑ کر ایف بی آر کہتا ہے کارروائی ہوگئی، جو ایک دو فون لیکر آتے ہیں صرف انکے خلاف کارروائی کرلی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز