نیوزی لینڈ دہشت گرد حملہ: پانچ پاکستانیوں کی گمشدگی کا انکشاف

March 15, 2019

کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں پر حملے کے بعد سے پانچ پاکستانی نژاد افراد کی گمشدگی کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کے واقعے کے بعد گمشدہ ہونے والوں میں 36 سالہ محمد سہیل شاہد، 26 سالہ سید اریب احمد، 34 سالہ سید جہاں دید علی، 24 سالہ طلحہٰ نعیم اور محمد زاہد شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ہم نیوز کے پروگرام بڑی بات سے خبر کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہائی کمیشن پانچوں افراد کے اہلخانہ سے رابطے میں ہے۔

 

 

ہم نیوز کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے حافظ آباد کا رہائشی محمد امین بھی زخمی ہوا جو اپنے بیٹے کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھنے گیا تھا۔

محمد امین کو سینے اور پسلیوں میں دو گولیاں لگیں، وہ کرائسٹ چرچ کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

محمد امین کے بیٹے یاسر امین کے مطابق وہ والد کے ساتھ نماز پڑھنے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے مسجد کے باہر سے ہی فائرنگ شروع کر دی تھی۔

واقعہ کے بعد محمدامین کے رشتہ دار انکے گھر پہنچنا شروع ہو گئے ۔اہل خانہ نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ نیوزی لینڈ میں محمد امین کے بیٹے کو والد سے ملنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

حملے میں کراچی کا 27 سالہ اریب بھی زخمی ہوا ہے جو شہرقائد کے علاقے فیڈرل بی ایریا کا رہائشی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اریب چارٹڈ اکاؤنٹنٹ ہے جو کراچی کی ایک فرم میں ملازمت کرتا تھا جس نے ان کو نیوزی لینڈ بھیجا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اریب کو ٹانگ میں گولی۔ ان کے والدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اریب سے ہمارا رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستانیوں کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چار پاکستانی زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔ تاہم انہوں نے ناموں کی تصدیق نہیں کی۔

انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ لاپتہ افراد کا جلد پتہ چل جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی مشن مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ واقعے سے متعلق معلومات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

کرائسٹ چرچ حملہ

نیوزی لینڈ میں نامعلوم مسلح شخص  نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے کہا کہ مساجد پرفائرنگ دہشت گردی ہے، اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس زیرحراست افراد سے تحقیقات کررہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے نیوزی لینڈ کو چنا گیا، پوری کوشش ہے کہ شہریوں کو مکمل تحفظ دیں، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرےمیں لایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کے مسلمان رگبی پلئیر کامساجدپر حملے کے بعد بیان

انہوں نے کہا کہ پولیس پوری طرح متحرک ہے، زیرحراست افراد کی کار میں بارودی مواد نصب تھا، ہماری ایجنسیاں معاملے کو دیکھ رہی ہیں، حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

آسٹریلوی وزیراعظم نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک آسٹریلوی شہری کو اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنر مائیک بش نے کہا ہے کہ چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز