نیب قوانین میں ترمیم ہونی چاہئے، سیاسی رہنماؤں کی رائے

March 15, 2019

اسلام آباد: رہنما مسلم لیگ ن ملک احمد خان نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ہم نیوز کے پروگرام پاکستان ٹونائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مزید دہشت گردی و انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتا ہے جو کہ بہت خطرناک ہے، مساجد ہوں یا گرجا گھر یہ امن کی جگہ ہیں وہاں ایسے واقعات ہونا بہت تشویش ناک ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے جھوٹ کی بنیاد پر الزامات لگائے ہیں انہیں معافی مانگنی چاہئے۔نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے ایسے قوانین بنائے جائیں جو خود کار طریقے سے چلیں نہ کے اسے کوئی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرے۔

حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے، زاہد حسین

تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر ہونے والا حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تاہم اس واقعے میں ملوث شخص کو دہشت گرد قرار دینا چاہئے تھا۔

زاہد حسین نے کہا کہ کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے تاہم اس کے خلاف قانون کا راستہ اپنانا چاہئے۔ کرپشن کا عنصر پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام پارٹیوں میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا احتساب کا عمل شفاف ہونا چاہئے۔

نیب کے قوانین نہ ہی ہمارے دور میں بنے نہ کیسز ہم نے بنائے، کنول شوذب

رہنما پی ٹی آئی کنول شوذب نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کا تصور صرف مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جو کہ غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کا جب بھی کوئی واقع ہوتا ہے تو مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے تاہم اگر دہشت گردی کا مرتکب ہونے والے شخص کا تعلق کسی اور ملک سے ہو تو اسے دہشت گرد نہیں کہا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے قوانین نہ ہی ہمارے دور میں بنے نہ کیسز ہم نے بنائے اور نہ ہی چیئرمین نیب کو ہم نے لگایا۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں کیوں نہیں نیب کے قوانین میں ترامیم کروائیں۔

خیبر پختون خواہ میں کیوں نیب کو بند کیا گیا، ندیم اصغر کائرہ 

رہنما پیپلز پارٹی ندیم اصغر کائرہ نے کہا ہے نیب نے پاکستان پیپلز پارٹی کا 2002 میں مینڈیٹ چوری کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں کیوں نیب کو بند کیا گیا صرف کرپٹ عناصر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ہی موجود ہیں؟

ندیم اصغر نے کہا کہ کسی بھی کرپٹ شخص کو پکڑنا ہے تو اس کا طریقہ کار ہوتا ہے کوئی انکوائری ہوتی ہے اور کون کرپٹ ہے اس کا فیصلہ عدالت کے سپرد کر دینا چاہیئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب لوگوں کی عزت نفس مجروح کر رہی ہے، تمام پارٹیوں کو اکھٹے ہو کر اس کالے قانون میں ترمیم کرنا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز