بنگلہ دیشی ٹیم کے نیوزی لینڈ دہشتگرد حملے میں بچنے کی لرزہ خیز داستان

March 15, 2019

مشہور کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے صحافی نے فائرنگ کے واقعے کے انتہائی قریب بنگلہ دیشی ٹیم کے کھلاڑیوں کے حملے سے فرار کی تفصیلات بتائی ہیں۔

صحافی محمد اسلام کا کہنا ہے کہ دورہ نیوزی لینڈ کے لیے موجود بنگلہ دیشی ٹیم پریکٹس کے لیے ہیگلے اول گئی۔ وہاں بارش ہونے والی تھی اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ پہلے قریبی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جائے۔

بنگلہ دیشی کپتان محمد اللہ نے میچ سے قبل پریس کانفرنس کی اور اس وقت وہ جلدی میں تھے کیونکہ ٹیم کے باقی کھلاڑی مسجد جانے کے لیے ان کا انتطار کررہے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے نو منٹ تک بات کی۔

’یہاں پرفائرنگ ہورہی ہے، پلیزہمیں بچاؤ‘

بنگلہ دیشی ٹیم کے 17 کھلاڑی اور مینجر خالد مسعود بھی بس میں سوار ہونے کے لیے تیار تھے کہ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال کی فون کال آئی اور انہوں نے کہا کہ یہاں پر فائرنگ ہورہی ہے، پلیز ہمیں بچاؤ۔

محمد اسلام کے مطابق پہلے انہوں نے اسے مذاق سمجھا لیکن تمیم اقبال کی دوبارہ کال آگئی جس میں ان کی آواز واضح طور پر کانپ رہی تھی۔ تمیم اقبال نے کہا کہ پولیس کو کال کریں کیونکہ یہاں وہ جس مسجد میں داخل ہونے والے ہیں، وہاں فائرنگ ہورہی ہے۔

صحافی کا کہنا ہے کہ جب موقع پر دیگر دوصحافیوں کے ہمراہ پہنچا تو وہاں پولیس کی آمد شروع ہوچکی تھی۔

وہاں پر ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بازو کو پکڑے مدد کے لیے پکار رہا تھا اور اس کی شرٹ پرخون بھی لگا ہوا تھا۔

پھر انہوں نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو ایک بس کے پاس سے قطار میں بھاگتے دیکھا، ان کے قریب جانے پر کھلاڑی عبادت حسین نے بازو پکڑ کر کھینچا اور اپنے ساتھ بھاگنے کو کہا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ ہوا کیا ہے، مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ نشانہ بنگلہ دیشی ٹیم تھی۔

جب کھلاڑی ہیگلے پارک کی دوسری طرف پہنچے تو کسی نے راستے کا پوچھا، گراؤنڈ دائیں طرف ہے جو یہاں سے 15 منٹ دور ہے، کھلاڑی پارک میں داخل ہوئے اور انہوں نے بھاگنا شروع کردیا۔

جب کھلاڑیوں کو بکھرتے دیکھا تو کسی کو انہیں اکٹھا کرنے اور آہستہ ہونے کو کہا تاکہ سارے ساتھ چل سکیں۔

یہ فاصلہ ایک کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھا لیکن زندگی کے طویل ترین منٹ تھے، کھلاڑی باتیں کررہے تھے کہ انہوں نے کیسے خون اور لاشیں دیکھیں۔ ایک سینئر کھلاڑی نے مجھے گلے لگایا اور رونا شروع کردیا اور میرے پاس اسے کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

’اگر ہم لوگ پانچ منٹ پہلے پہنچے ہوتے تو سب مارے جاچکے ہوتے‘

فائرنگ کے مناظر انتہائی قریب سے دیکھنے والے ہر بنگلہ دیشی کھلاڑی کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ اگر ہم لوگ پانچ منٹ پہلے پہنچے ہوتے تو سب مارے جاچکے ہوتے۔

اسی حوالے سے تمیم اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ سرگرم حملہ آور سے پوری ٹیم محفوظ رہی، خوفناک تجربہ ہے اور انہوں نے دعاؤں کی درخواست کی۔

مشفق الرحیم نے لکھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم حملے میں بچ گئے، ہم بہت خوش قسمت ہیں، دوبارہ ایسا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھنا چاہتا، ہمارے لیے دعا کریں۔

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد دونوں کرکٹ بورڈ کی مشاورت سے بنگلہ دیشی ٹیم کا دورہ ختم کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز