نیوزی لینڈ میں اسلحہ قوانین تبدیل کرنے کا اعلان

March 16, 2019
نیوزی لینڈ میں اسلحہ قوانین تبدیل کرنے کا اعلان

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ایرڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کی اطلاع ملنے کے 36 منٹ کے اندرپولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کو سیکیورٹی کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ایرڈن نے اعلان کیا کہ ملک میں اسلحہ قوانین تبدیل کیے جائیں گے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کا مرکزی ملزم سیکیورٹی اداروں کی واچ لسٹ پرنہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کے حوالے سے کی جانے والی تفتیش میں آسٹریلوی حکام سے رابطے میں ہیں۔

جیسنڈا ایرڈن نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرے گی اوران کے ساتھ  ہرطرح کا تعاون کیا جائے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی تدفین کے لیے متاثرہ خاندانوں سے مل کرکام کررہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گرد حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید اور 47 زخمی ہوگئے تھے۔

شہدا میں پاکستانی باپ بیٹا بھی شامل ہیں جن کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ اسپتالوں میں زیرعلاج گیارہ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

حملہ آور کی شناخت 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے جو آسٹریلوی شہری ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم نے سانحہ کرائسٹ چرچ پر گزشتہ روز اظہار افسوس کرتے ہوئے انتہائی دکھ ظاہر کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ نیوزی لینڈ کے حکام کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز